تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 179 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 179

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷۹ سورة بني اسراءيل وَقَدْ سَأَلَ الْمُشْرِكُونَ سَيِّدَنَا مشرکین نے ہمارے آقا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْقَى في یہ معجزہ مانگا تھا کہ اگر آپ سچے اور مقبول بارگاہ ہیں تو آپ آسمان السَّمَاءِ إِنْ كَانَ صَادِقًا مَّقْبُولا پر چڑھ جائیں اس کے جواب میں فرمایا گیا قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي فَقِيلَ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَّسُولًا یعنی اے رسول تو انہیں کہہ دے کہ بَشَرًا رَّسُولًا فَمَا ظَنُّكَ أَلَيْسَ ابْنُ میرا رب ایسی بیہودہ باتوں کے اختیار کرنے سے پاک ہے میں تو مَرْيَمَ بَشَرًا كَمَثَلِ خَيْرِ الْمُرْسَلِينَ؟ صرف بشر رسول ہوں آسمان پر نہیں جاسکتا۔ پس تمہارا اس أَوْ تَفْتَرِى عَلَى اللهِ وَتُقَدِّمُهُ عَلی بارے میں کیا خیال ہے کیا ابن مریم خیر المرسلین کی مانند بشر نہیں أَفْضَلِ النَّبِيِّينَ؛ أَلَا إِنَّهُ مَا صَعِدَ تھے یا تو اللہ پر افتراء کر کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو افضل إِلَى السَّمَاءِ أَلَا إِنَّ لَعْنَةَ اللهِ عَلَی الانبیاء پر مقدم قرار دیتا ہے۔ خبردار مسیح آسمان پر نہیں چڑھے۔ الْكَاذِبِينَ وَشَهِدَ اللهُ أَنَّهُ قَدْ اور یہ بھی یاد رکھو کہ جھوٹوں پر خدا کی لعنت ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ مَاتَ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللهِ رَبِّ نے یہ گواہی دے دی ہے کہ مسیح علیہ السلام وفات پاگئے ہیں ۔ اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ سچا اور کون ہو سکتا ہے۔ ( ترجمہ از مرتب ) الْعَالَمِينَ؟ الهدى والتبصرة لمن يرى ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۳۶۵) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے آسمان پر چڑھنے کی درخواست کی گئی جیسا کہ قرآن شریف میں مذکور ہے مگر وہ یہ کہہ کرنا منظور کی گئی کہ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَسُولاً تو کیا عیسی بشر نہ تھا کہ اس کو بغیر درخواست کے آسمان پر چڑھایا گیا۔ ( تذکرۃ الشهادتين ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۷) یہ خیالات نہایت قابل شرم ہیں کہ خدا تعالیٰ حضرت مسیح کو مع جسم آسمان پر اُٹھا لے گیا تھا۔ گویا یہودیوں سے ڈرتا تھا کہ کہیں پکڑ نہ لیں۔ جن لوگوں کو اصل تنازعہ کی خبر نہ تھی انہوں نے ایسے خیالات پھیلائے ہیں اور ایسے خیالات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کی ہے۔ کیونکہ آپ سے کفار قریش نے بہ تمام تر اصرار یہ معجزہ طلب کیا تھا کہ آپ ہمارے روبرو آسمان پر چڑھ جائیں اور کتاب لے کر آسمان سے اتریں تو ہم سب ایمان لے آویں گے اور ان کو یہ جواب ملا تھا قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَسُولًا یعنی میں ایک بشر ہوں اور خدا تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ وعدہ کے برخلاف کسی بشر کو آسمان پر چڑھا دے۔ ھادے۔ حالانکہ وہ وعدہ کر چکا ہے کہ تمام بشر زمین پر ہی اپنی زندگی بسر کریں گے۔ لیکن حضرت مسیح کو خدا نے آسمان پر مع جسم چڑھا