تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 157 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 157

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۷ سورة بني اسراءيل روحوں کے پیدا کرنے پر قادر نہیں بلکہ ان کی نسبت پورا پورا علم بھی نہیں رکھتا ۔ دوسرا ٹکڑہ ہمارے سوال کا حق العباد سے متعلق ہے یعنی یہ کہ آریہ صاحبان کے اعتقاد مذکورہ بالا کے رو سے یہ بھی ثابت ہوتا ہوتا ہے کہ پرمیشر اپنے بندوں سے بھی ناحق کا ایک بغل رکھتا ہے کیونکہ یہ بات صاف ظاہر ہے کہ مکتی اور نجات کی اصل حقیقت یہی ہے کہ انسان ما سوائے اللہ کے محبت سے مونہہ پھیر کر پر میشر کی محبت میں ایسا محو ہو جائے کہ جس طرح عاشق اپنے محبوب کے دیکھنے سے لذت اٹھاتا ہے ایسا ہی اپنے محبوب حقیقی کے تصور سے لذت اٹھائے اور محبت بجز معرفت حاصل نہیں ہو سکتی اور قاعدہ کی بات ہے کہ موجب محبت کے دو ہی امر ہیں یا حُسن یا احسان پس جب انسان به باعث اپنی کامل معرفت کے خدائے تعالیٰ کے حُسن واحسان پر اطلاع کامل طور پر پاتا ہے تو لا محالہ اس سے کامل محبت پیدا ہو جاتی ہے اور کامل محبت سے لذت ملتی ہے پس اسی جہان سے بہشتی زندگی عارف کی شروع ہو جاتی ہے اور وہی معرفت اور محبت عالم آخرت میں سرور دائمی کا موجب ہو جاتی ہے جس کو دوسرے لفظوں میں نجات سے تعبیر کرتے ہیں۔ اب میں پوچھتا ہوں کہ جب ایک شخص کو پورا پورا سامان نجات کا میسر آ گیا اور پرمیشر کی کر پا اور فضل سے مکتی پا گیا تو پھر کیوں پر میشر اس کو نا کردہ گناہ مکتی خانہ سے باہر نکالتا ہے کیا وہ اس بات سے چڑتا ہے کہ کوئی عاجز بندہ ہمیشہ کے لئے آرام پاسکے جس حالت میں ابدی بقا کے روحوں میں قوت رکھی گئی ہے تو کیا پر میشر اپنے بندوں کو ابدی سرور نہیں دے سکتا۔ (سرمه چشم آریہ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۱۳۹ تا ۱۴۲) اگر سب ارواح اور اجسام خود بخود پرمیشر کی طرح قدیم اور انادی ہیں اور اپنے اپنے وجود کے آپ ہی خدا ہیں ۔ تو پر میشر اس دعوی کا ہرگز مجاز نہیں رہا کہ میں ان چیزوں کا رب اور پیدا کنندہ ہوں کیونکہ جب کہ ان چیزوں نے پرمیشر کے ہاتھ سے وجود ہی نہیں لیا تو پھر ایسا پرمیشران کا رب اور مالک کیوں کر ہو سکتا ہے۔ مثلاً اگر کوئی بچہ بنا بنا یا آسمان سے گرے یا زمین کے خمیر سے خود پیدا ہو جائے تو کسی عورت کو یہ دعوی ہرگز نہیں پہنچتا کہ یہ میرا بچہ ہے بلکہ اس کا بچہ وہی ہو گا جو اس کے پیٹ سے نکلا ہے سو جو خدا کے ہاتھ سے نکلا ہے وہی خدا کا ہے اور جو اس کے ہاتھ سے نہیں نکلا وہ اس کا کسی طور سے نہیں ہو سکتا۔ کوئی صالح اور بھلا مانس ایسی چیزوں پر ہرگز قبضہ نہیں کرتا جو اس کی نہ ہوں تو پھر کیوں کر آریوں کے پرمیشر نے ایسی چیزوں پر قبضہ کر لیا جن پر قبضہ کرنے کا اس کو کوئی استحقاق نہیں ۔ (سرمه چشم آریہ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۱۴۶) عیسائیوں نے جب اپنی نادانی سے یہ کہنا شروع کیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کلمۃ اللہ ہیں یعنی ان کی روح