تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 156
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۶ سورة بنى اسراءيل ا تعالیٰ کو اس کی خدائی سے جواب دے رہا ہے کیونکہ جولوگ علم نفس اور خواص ارواح سے واقف ہیں وہ خوب سمجھتے ہیں کہ جس قدر ارواح میں عجائب و غرائب خواص بھرے ہوئے ہیں وہ صرف جوڑ نے جاڑنے سے پیدا نہیں ہو سکتے مثلاً روحوں میں ایک قوت کشفی ہے جس سے وہ پوشیدہ باتوں کو بعد مجاہدات دریافت کر سکتے ہیں اور ایک قوت ان میں عقلی ہے جس سے وہ امور عقلیہ کو معلوم کر سکتے ہیں۔ ایسا ہی ایک قوت محبت بھی ان میں پائی جاتی ہے جس سے وہ خدائے تعالیٰ کی طرف جھکتے ہیں اگر ان تمام قوتوں کو خود بخود بغیر ایجاد کسی موجد کی مان لیا جائے تو پرمیشر کی اس میں بڑی ہتک عزت ہے گویا یہ کہنا پڑے گا کہ جو عمدہ اور اعلیٰ کام تھا وہ تو خود بخود ہے اور جو ادنی اور ناقص کام تھا وہ پرمیشر کے ہاتھ سے ہوا ہے اور اس بات کا اقرار کرنا ہوگا کہ جو خود بخود عجائب حکمتیں پائی جاتی ہیں وہ پرمیشر کے کاموں سے کہیں بڑھ کر ہیں ایسا کہ پرمیشر بھی ان سے حیران ہے غرض اس اعتقاد سے آریہ صاحبوں کے خدا کی خدائی پر بڑا صدمہ پہنچے گا یاں تک کہ اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہوگا اور اس کے وجود پر کوئی عقلی دلیل قائم نہ ہو سکے گی اور نیز وہ مبدء کل فیوض کا نہیں ہو سکے گا بلکہ اس کا صرف ایک ناقص کام ہوگا اور جو اعلیٰ درجہ کے عجائب کام ہیں ان کی نسبت یہی کہنا پڑے گا کہ وہ سب خود بخود ہیں لیکن ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ اگر فی الحقیقت ایسا ہی ہے تو اس سے اگر فرضی طور پر پرمیشر کا وجود مان بھی لیا جائے تب بھی وہ نہایت ضعیف اور نکما سا وجود ہو گا جس کا عدم وجود مساوی ہوگا یاں تک کہ اگر اس کا مرنا بھی فرض کیا جائے تو روحوں کا کچھ بھی حرج نہ ہوگا اور وہ اس لائق ہرگز نہیں ہوگا کہ کوئی روح اس کی بندگی کرنے کے لئے مجبور کی جائے کیونکہ ہر یک روح اس کو جواب دے سکتی ہے کہ جس حالت میں تم نے مجھے پیدا ہی نہیں کیا اور نہ میری طاقتوں اور قوتوں اور استعدادوں کو تم نے بنایا تو پھر آپ کسی استحقاق سے مجھ سے اپنی پرستش چاہتے ہیں اور نیز جبکہ پرمیشر روحوں کا خالق ہی نہیں تو ان پر محیط بھی نہیں ہو سکتا۔ اور جب احاطہ نہ ہو سکا تو پر میشر اور روحوں میں حجاب ہو گیا اور جب حجاب ہوا تو پر میشر سرب گیانی نہ ہو سکا یعنی علم غیب پر قادر نہ ہوا۔ اور جب قادر نہ رہا تو اس کی سب خدائی درہم برہم ہوگئی تو گویا پرمیشر ہی ہاتھ سے گیا اور یہ بات ظاہر ہے کہ علم کامل کسی شے کا اس کے بنانے پر قادر کر دیتا ہے اس لئے حکماء کا مقولہ ہے کہ جب علم اپنے کمال تک پہنچ جائے تو وہ عین عمل ہو جاتا ہے اس حالت میں بالطبع سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا پر میشر کو روحوں کی کیفیت اور گنہ کا پورا پورا علم بھی ہے یا نہیں اگر اس کو پورا پورا علم ہے تو پھر کیا وجہ کہ باوجود پورا پورا علم ہونے کے پھر ایسی ہی روح بنا نہیں سکتا سو اس سوال پر غور کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف یہی نہیں کہ پرمیشر