تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 152
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۲ سورة بنى اسراءيل نمونہ ہے کیونکہ عصر گھوٹنے اور نچوڑنے کو کہتے ہیں۔ جب حالت اور بھی نازک ہو جاتی ہے اور فرد قرارداد جرم لگ جاتی ہے تو یاس اور نا امیدی بڑھتی ہے کیونکہ اب خیال ہوتا ہے کہ سزا مل جاوے گی یہ وہ وقت ہے جو مغرب کی نماز کا مکس ہے۔ پھر جب حکم سنایا گیا اور کنٹیل یا کورٹ انسپکٹر کے حوالہ کیا گیا تو وہ روحانی طور پر نماز عشاء کی عکسی تصویر ہے۔ یہاں تک کہ نماز کی صبح صادق ظاہر ہوئی اور إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا ( الم نشرح : ٧) کی حالت کا وقت آگیا تو روحانی نماز فجر کا وقت آگیا اور فجر کی نماز اس کی عکسی تصویر ہے ۔ رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ ء صفحہ ۱۶۶، ۱۶۷) وَ مِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدُ بِهِ نَافِلَةً لَكَ عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا ۔۔۔ خدا تجھے اس مقام پر اٹھائے گا جس میں تو تعریف کیا جائے۔ مجموعه اشتہارات جلد اول صفحه (۲۵۵) عنقریب وہ مقام تجھے ملے گا جس میں تیری تعریف کی جائے گی یعنی گواوّل میں احمق اور نادان لوگ بد باطنی اور بدظنی کی راہ سے بد گوئی کرتے ہیں اور نالائق باتیں منہ پر لاتے ہیں لیکن آخر خدائے تعالیٰ کی مدد کو دیکھ کر شرمندہ ہوں گے اور سچائی کے کھلنے سے چاروں طرف سے تعریف ہوگی ۔ مجموعه اشتہارات جلد اول صفحه ۱۳۷) وہ وقت قریب ہے کہ میں ایسے مقام پر تجھے کھڑا کروں گا کہ دنیا تیری حمد و ثنا کرے گی ۔ ( دافع البلاء، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۲۸) وَقُلْ رَّبِّ ادْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَ اَخْرِجْنِى مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَنَا نَصِيرًا قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ ۔۔۔۔ خدا سے اپنے صدق کا ظہور مانگ ۔ ( مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ ۵۹) اور کہہ کہ خدا یا پاک زمین میں مجھے جگہ دے ۔ ( دافع البلاء، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۴۱) وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا A کئی مقام قرآن شریف میں اشارات و تصریحات سے بیان ہوا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مظہر اتم