تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 151
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۱ سورة بني اسراءيل مارتا ہے اور ور تمہیں اُس۔ اُس تاریکی سے نجات دیتا ہے مثلاً جیسے تاریکی کے بعد پھر آخر کار صبح نکلتی ہے اور پھر وہی روشنی دن کی اپنی چمک کے ساتھ ظاہر ہو جاتی ہے سو اس روحانی حالت کے مقابل پر نماز فجر مقرر ہے اور خدا نے تمہارے فطرتی تغیرات میں پانچ حالتیں دیکھ کر پانچ نمازیں تمہارے لئے مقرر کیں اس سے تم سمجھ سکتے ہو کہ یہ نمازیں خاص تمہارے نفس کے فائدہ کے لئے ہیں پس اگر تم چاہتے ہو کہ ان بلاؤں سے بچے رہو تو تم پنجگانہ نمازوں کو ترک نہ کرو کہ وہ تمہاری اندرونی اور روحانی تغیرات کا ظل ہیں ۔ نماز میں آنے والی بلاؤں کا علاج ہے تم نہیں جانتے کہ نیا دن چڑھنے والا کس قسم کے قضاء و قدر تمہارے لئے لائے گا پس قبل اس کے جو دن چڑھے تم اپنے مولی کی جناب میں تضرع کرو کہ تمہارے لئے خیر و برکت کا دن چڑھے۔ کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۶۸ تا ۷۰ ) یا درکھو کہ یہ جو پانچ وقت نماز کے لئے مقرر ہیں یہ کوئی تحکم اور جبر کے طور پر نہیں بلکہ اگر غور کرو تو یہ دراصل روحانی حالتوں کی ایک عکسی تصویر ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اَقِمِ الصَّلوةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ یعنی قائم کرو نماز کو دُلُوكِ الشَّمْسِ سے ۔ اب دیکھو اللہ تعالیٰ نے یہاں قیام صلوۃ کو دُلُوكِ الشَّمْسِ سے لیا ہے دلوک کے معنوں میں گو اختلاف ہے لیکن دو پہر کے ڈھلنے کے وقت کا نام دُلُوك ہے۔ اب دُلُوك سے لے کر پانچ نمازیں رکھ دیں اس میں حکمت اور سر کیا ہے قانون قدرت رکھتا ہے کہ روحانی تذلل اور انکسار کے مراتب بھی دلوٹ ہی سے شروع ہوتے ہیں اور پانچ ہی حالتیں آتی ہیں ۔ پس یہ طبعی نماز بھی اس وقت سے شروع ہوتی ہے جب حزن اور ہم و غم کے آثار شروع ہوتے ہیں۔ اس وقت جبکہ انسان پر کوئی آفت یا مصیبت آتی ہے تو کس قدر تدلل اور انکساری کرتا ہے۔ اب اس وقت اگر زلزلہ آوے تو تم سمجھ سکتے ہو کہ طبیعت میں کیسی رقت اور انکساری پیدا ہو جاتی ہے۔ اسی طرح پر سوچو کہ اگر مثلاً کسی شخص پر نارلش ہو تو سمن یا وارنٹ آنے پر اس کو معلوم ہوگا کہ فلاں دفعہ فوجداری یا دیوانی میں نالش ہوئی ہے۔اب بعد مطالعہ وارنٹ اس کی حالت میں گویا نصف النہار کے بعد زوال شروع ہوا۔ کیونکہ وارنٹ یا سمن تک تو اسے کچھ معلوم نہ تھا۔ اب خیال پیدا ہوا کہ خدا جانے ادھر وکیل ہو یا کیا ہو؟ اس قسم کے ترددات اور تفکرات سے جوز وال پیدا ہوتا ہے یہ وہی حالت دلوک ہے اور یہ پہلی حالت ہے جو نماز ظہر کے قائم مقام ہے اور اس کی عکسی حالت نماز ظہر ہے۔ اب دوسری حالت اس پر وہ آتی ہے جبکہ وہ کمرہ عدالت میں کھڑا ہو۔ فریق مخالف اور عدالت کی طرف سے سوالات جرح ہو رہے ہو رہے ہیں اور وہ ایک عجیب حالت ہوتی ہے۔ یہ وہ حالت اور وقت ہے جو نماز عصر کا