تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 118
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۱۸ سورة بني اسراءيل کوئی مصلح گزرا ہے اور ہمیں یہ بھی تعلیم دی گئی ہے کہ ہم پورے علم کے بغیر کسی کی نسبت کوئی رائے ظاہر نہ کریں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أولَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا سو یہ پاک عقائد ہمیں بے جابد زبانیوں اور متعصبانہ نکتہ چینیوں سے محفوظ رکھتے ہیں مگر ہمارے مخالف چونکہ تقویٰ کی راہوں سے بالکل دور اور بے قید اور خلیج الرسن ہیں اور قرآن کریم جو سب سے پیچھے آیا ان کو طبعاً برا معلوم ہوتا ہے لہذا وہ جلد نخش گوئی اور بد زبانی اور توہین کی طرف مائل ہو جاتے ہیں اور سچی باتوں کے مقابل پر افتراؤں سے کام لیتے ہیں۔ (آریہ دھرم، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۹۹٬۹۸) جس بات کا تجھ تجھ کو کو نطقی علم نہیں دیا گیا۔ اس بات کا پیرو کارمت بن اور یادرکھ کہ کان اور آنکھ اور دل جس قدر اعضاء ہیں ان سب اعضاء سے باز پرس ہوگی ۔ آریہ دھرم، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۹۹) جميع اعضا کی وضع استقامت پر چلانے کے لئے ایک ایسا کلمہ جامعہ اور پر تہدید بطور تنبیہ و انذار فرمایا جو غافلوں کو متنبہ کرنے کے لئے کافی ہے اور کہا إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا - یعنی کان اور آنکھ اور دل ایسا ہی تمام اعضا اور قوتیں جو انسان میں موجود ہیں۔ ان سب کے غیر محل استعمال کرنے سے باز پرس ہوگی اور ہر یک کمی بیشی اور افراط اور تفریط کے بارہ میں سوال کیا جائے گا۔ اب دیکھو اعضا اور تمام قوتوں کو مجری خیر اور صلاحیت پر چلانے کے لئے کس قدر تصریحات و تاکیدات خدا کے کلام میں موجود ہیں اور کیسے ہر یک عضو کو مرکز اعتدال اور خط استوا پر قائم رکھنے کے لئے بکمال وضاحت بیان فرمایا گیا ہے جس میں کسی نوع کا ابہام و اجمال باقی نہیں رہا۔ کیا یہ تصریح و تفصیل صحیفہ قدرت کے کسی صفحہ کو پڑھ کر معلوم ہو سکتی ہے۔ ہرگز نہیں۔ ( براہین احمد یہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۱۰ حاشیہ نمبر ۱۱) جس چیز کا تجھے علم نہیں اس کے پیچھے مت پڑ۔ (براہین احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۶۰۸ حاشیه در حاشیه نمبر (۳) کسی کی نسبت وہ بہتان یا الزام مت لگاؤ جس کا تمہارے پاس کوئی ثبوت نہیں اور یا درکھو کہ ہر ایک عضو سے مواخذہ ہوگا اور کان، آنکھ، دل ہر ایک سے پوچھا جائے گا۔ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۵۰) وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِہ علم یہاں علم سے مراد یقین ہے۔ البدر جلد ۲ نمبر ۵ مورخه ۲۰ فروری ۱۹۰۳ ء صفحه ۳۶)