تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 117 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 117

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۱۷ سورة بني اسراءيل ہے۔ زنا کی راہ بہت بری راہ ہے یعنی منزل مقصود سے روکتی ہے اور تمہاری آخری منزل کے لئے سخت خطرناک ہے۔ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۴۲) وَ أَوْفُوا الْكَيْلَ إِذَا كِلْتُمْ وَ زِنُوا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيمِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَ أَحْسَنُ تَأْوِيلا (۳۶) جب تم ما پو تو پورا ما پو۔ جب تم وزن کرو تو پوری اور بے خلل تر از و سے وزن کرو۔ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۴۷) وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا (۳۷) طریق تقویٰ یہ ہے کہ جب تک فراست کا ملہ اور بصیرت صحیحہ حاصل نہ ہو تب تک کسی چیز کے ثبوت یا عدم ثبوت کی نسبت حکم نافذ نہ کیا جاوے۔ الحق لدھیانہ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۱۹) بدظنی اور بدگما بدگمانی میں حد سے زیادہ مت بڑھو ایسا نہ ہو کہ تم اپنی باتوں سے پکڑے جاؤ۔ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۰۴) خدا تعالیٰ نے صرف قرآن کریم میں ہاتھ پیر کے گناہوں کا ذکر نہیں کیا بلکہ کان اور آنکھ اور دل کے گناہوں کا بھی ذکر کیا ہے جیسا کہ وہ اپنے پاک کلام میں فرماتا ہے اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا یعنی کان اور آنکھ اور دل جو ہیں ان سب سے باز پرس کی جائے گی ۔اب دیکھو جیسا کہ خدا تعالیٰ نے کان اور آنکھ کے گناہ کا ذکر کیا ایسا ہی دل کے گناہ کا بھی ذکر کیا مگر دل کا گناہ خطرات اور خیالات نہیں ہیں کیونکہ وہ تو دل کے بس میں نہیں ہیں بلکہ دل کا گناہ پختہ ارادہ کر لینا ہے۔صرف ایسے خیالات جو انسان کے اپنے اختیار میں نہیں گناہ میں داخل نہیں ۔ ہاں اس وقت داخل ہو جائیں گے جب ان پر عزیمت کرے اور ان کے ارتکاب کا ارادہ کر لیوے۔ (نور القرآن ، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۲۷، ۴۲۸) اسلام ایک ایسا مذہب ہے کہ جو کسی قوم کے پیشوا کو گالی دینا اس کا اصول نہیں کیونکہ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ ہم ان پیغمبروں پر ایمان لائے ہیں جن کا ذکر قرآن میں ہے اور یہ بھی ہمارا عقیدہ ہے کہ ہر ایک قوم میں کوئی نہ