تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 109
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۰۹ سورة بني اسراءيل ہے۔ اور اس کے ذریعہ سے انسان کی جزئی ترقی نہیں بلکہ یہ وہ وسائل بتلاتا ہے اور ایسے علوم کاملہ تعلیم فرماتا ہے جن سے کلی طور پر ترقی ہو۔ ( براہین احمد یہ چہار قصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۲۵ حاشیہ نمبر ۱۱) اور ہر ایک شے کی تفصیل اس میں موجود ہے۔ (کرامات الصادقین ، روحانی خزائن جلد ۷ صفحہ ۵۹ ) وَ كُلَّ إِنْسَانِ الْزَمْنَهُ طَيرَةَ فِي عُنُقِهِ وَنُخْرِجُ لَهُ يَوْمَ الْقِيمَةِ كِتَبًا يَلْقَهُ مَنْشُورًا قرآن شریف بار بار یہی فرماتا ہے کہ عالم آخرت کوئی نئی چیز نہیں ہے بلکہ اس کے تمام نظارے اسی دنیوی ازندگی زنده کے اظلال و آثار ہیں جیسا کہ وہ فرماتا ہے كُلَّ اِنْسَانِ الْزَمُنْهُ طَيرَة رَةً فِي عُنُقِهِ وَنُخْرِجُ وَ لَهُ يَوْمَ الْقِيمَةِ كِتَبًا يَلْقَهُ مَنْشُورًا یعنی ہم نے اس دنیا میں ہر ایک شخص کے اعمال کا اثر اس کی گردن سے باندھ رکھا ہے اور انہیں پوشیدہ اثروں کو ہم قیامت کے دن ظاہر کر دیں گے۔ اور ایک کھلے کھلے اعمال نامہ کی شکل پر دکھلا دیں گے۔ اس آیت میں جو طائر کا لفظ ہے تو واضح ہو کہ طائر اصل میں پرندہ کو کہتے ہیں پھر استعارہ کے طور پر اس سے مراد عمل بھی لیا گیا ہے کیونکہ ہر ایک عمل نیک ہو یا بد ہو وہ وقوع کے بعد پرندہ کی طرح پرواز کر جاتا ہے اور مشقت یا لذت اس کی کالعدم ہو جاتی ہے اور دل پر اس کی کثافت یا لطافت باقی رہ جاتی ہے۔ یہ قرآنی اصول ہے کہ ہر ایک عمل پوشیدہ طور پر اپنے نقوش جماتا رہتا ہے جس طور کا انسان کا فعل ہوتا ہے اس کے مناسب حال ایک خدا تعالیٰ کا فعل صادر ہوتا ہے اور وہ فعل اس گناہ کو یا اس کی نیکی کو ضائع ہونے نہیں دیتا بلکہ اس کے نقوش دل پر ، منہ پر آنکھوں پر ، کانوں پر ، ہاتھوں پر، پیروں پر لکھے جاتے ہیں اور یہی پوشیدہ طور پر ایک اعمالنامہ ہے جو دوسری زندگی میں کھلے طور پر ظاہر ہو جائے گا۔ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۰۱٬۴۰۰) مَنِ اهْتَدَى فَإِنَّمَا يَهْتَدِى لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا ۔ ۱۶ قرآن کوئی لعنتی قربانی پیش نہیں کرتا ۔ بلکہ ہرگز جائز نہیں رکھتا کہ ایک کا گناہ یا ایک کی لعنت کسی دوسرے پر ڈالی جائے چہ جائیکہ کروڑ ہا لوگوں کی لعنتیں اکٹھی کر کے ایک کے گلے میں ڈال دی جائیں ۔ قرآن شریف