تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 108 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 108

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۷۰۱ سورة بنى اسراءيل کی تمام قومی پر محیط ہو رہا ہے اور آیت موصوفہ میں سیدھی راہ سے وہی راہ مراد ہے کہ جو راہ انسان کی فطرت سے نہایت نزدیک ہے یعنی جن کمالات کے لئے انسان پیدا کیا گیا ہے اُن تمام کمالات کی راہ اُس کو دکھلا دینا اور وہ راہیں اُس کے لئے میسر اور آسان کر دینا جن کے حصول کے لئے اُس کی فطرت میں استعداد رکھی گئی ہے اور لفظ اقْوَمُ سے آیت يَهْدِي لِلَّتِي هِىَ اقوم میں یہی راستی مراد ہے۔ (کرامات الصادقین ، روحانی خزائن جلدی صفحه ۵۳، ۵۴) وَ جَعَلْنَا الَّيْلَ وَالنَّهَارِ ايَتَيْنِ فَمَحَوْنَا آيَةَ الَّيْلِ وَجَعَلْنَا آيَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِتَبْتَغُوا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ وَلِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ وَكُلَّ شَيْءٍ فَصَّلْنَهُ تفصيلا (۱۳) ہم نے رات اور دن دونشانیاں بنائی ہیں یعنی انتشار ضلالت جورات سے مشابہ ہے اور انتشار ہدایت جو دن سے مشابہ ہے۔ رات جو اپنے کمال کو پہنچ جاتی ہے تو دن کے چڑھنے پر دلالت کرتی ہے اور دن جب اپنے کمال کو پہنچ جاتا ہے تو رات کے آنے کی خبر دیتا ہے سو ہم نے رات کا نشان محو کر کے دن کا نشان رہنما بنایا یعنی جب دن چڑھتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے اندھیرا تھا۔ سو دن کا نشان ایسا روشن ہے کہ رات کی حقیقت بھی اسی سے کھلتی ہے اور رات کا نشان یعنی ضلالت کا زمانہ اس لئے مقرر کیا گیا کہ دن کے نشان یعنی انتشار ہدایت کی خوبی اور زیبائی اسی سے ظاہر ہوتی ہے کیونکہ خوبصورت کا قدر و منزلت بدصورت سے ہی معلوم ہوتا ہے اس لئے حکمت الہیہ نے یہی چاہا کہ ظلمت اور نور علی سبیل التبادل دنیا میں دور کرتے رہیں ۔ جب نور اپنے کمال کو پہنچ جائے تو ظلمت قدم بڑھاوے۔ اور جب ظلمت اپنے انتہائی درجہ تک پہنچ جائے تو پھر نورا اپنا پیارا چہرہ دکھاوے سو استیلا ظلمت کا نور کے ظہور پر ایک دلیل ہے اور استیلا نور کا ظلمت کے آنے کا ایک سبیل ہے۔ ہر کمالِ رَا زَ والے مثل مشہور ہے سو اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جب ظلمت اپنے کمال کو پہنچ گئی اور بڑو بحر ظلمت سے بھر گئے تو ہم نے مطابق اپنے قانون قدیم کے نور کے نشان کو ظاہر کیا تا دانشمند لوگ قادر مطلق کی قدرت نمایاں کو ملاحظہ کر کے اپنے یقین اور معرفت کو زیادہ کریں۔ - ( براہین احمد یہ چہار تخصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۶۳۵ تا ۷ ۶۳ ) وَ كُلَّ شَيْءٍ فَضَلْتُهُ تَفْصِيلا - الجزو نمبر ۱۵ ۔ یعنی اس کتاب میں ہر یک علم دین کو بہ تفصیل تمام کھول دیا