تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 432
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۳۲ سورة الرعد ہے : شَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ بَنِي إِسْرَاءِيلَ اور پھر فرمایا : کفی بِاللهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَمَنْ عِنْدَ الكتب ۔۔۔۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے ثبوت کے لئے ان کو پیش کرتا ہے تو ہمارا ان سے الحکم جلد ۱۰ نمبر ۱ ۴ مورخه ۳۰ نومبر ۱۹۰۶ صفحه ۵ ) عِلْمٌ اجتہاد کرنا کیوں حرام ہو گیا ؟ ثبوت دیکھو آنحضرت صلعم نے جو صاحب وحی ہونے کا دعویٰ کیا تھا تو وہ بے نشان نہیں تھا۔ کافروں نے جب ت مانگا تھا کہ آپ کی وحی کے منجانب اللہ ہونے کی دلیل کیا ہے؟ تو ان کو جواب دیا گیا تھا اب دیا گیا تھا : قُلْ كَفَى بِاللهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَ مَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الكتب یعنی یہ لوگ کہتے ہیں کہ تو خدا کا رسول نہیں ۔ ان کو کہہ دے کہ میرے پاس دو گواہیاں ہیں ایک تو اللہ کی کہ اس کے تازہ تازہ نشانات میری تائید میں ہیں اور دوسرے وہ لوگ جن کو کتاب اللہ کا علم دیا گیا ہے وہ بتا سکتے ہیں کہ میں سچا ہوں ۔ الحکم جلد ا ا نمبر ۱ ۴ مورخہ ۱۷ نومبر ۱۹۰۷ صفحه ۱۲، ۱۳ ) یا درکھو کہ قول بغیر فعل کے کچھ چیز نہیں اور یہ آیت کہ قُل كَفَى بِاللهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَمَنْ عِلْمُ الْكِتب اس میں ایک عجیب نکتہ ہے یعنی اگر خدا میری گواہی دیتا ہے تو مانو ورنہ نہ مانو۔ وَ مَنْ عِنْدَةً الحکم جلدا ا نمبر ۱ ۴ مورخہ ۱۷ نومبر ۱۹۰۷ صفحه ۱۳ )