تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 431
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام لحُكْمِهِ وَهُوَ سَرِيعُ الْحِسَابِ ۔ ۴۳۱ سورة الرعد سنت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ جب کوئی خدا کی طرف سے آتا ہے اور اس کی تکذیب کی جاتی ہے تو طرح طرح کی آفتیں آسمان سے نازل ہوتی ہیں جن میں اکثر ایسے لوگ پکڑے جاتے ہیں جن کا اس تکذیب سے چھ نہیں۔ پھر رفتہ رفتہ ا د رفتہ ائمہ الکفر پکڑے جاتے رے جاتے ہیں اور سب سے آ سے آخر بڑے شریروں کا وقت آتا ہے اسی کی طرف اللہ تعالیٰ اس آیت میں اشارہ فرماتا ہے : انا ناتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا یعنی ہم آہستہ آہستہ زمین کی طرف آتے جاتے ہیں۔ (حقیقة الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۶۶) سنت اللہ یہی ہے کہ ائمہ الکفر اخیر میں پکڑے جایا کرتے ہیں۔ چنانچہ حضرت موسیٰ کے وقت جس قدر عذاب پہلے نازل ہوئے ان سب میں فرعون بچا رہا چنانچہ قرآن شریف میں بھی آیا کہ نَأْتِي الْأَرْضَ تَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا یعنی ابتدا عوام سے ہوتا ہے اور پھر خواص پکڑے جاتے ہیں اور بعض کے بچانے میں اللہ تعالیٰ کی یہ حکمت بھی ہوتی ہے کہ انہوں نے آخر میں تو بہ کرنی ہوتی ہے یا ان کی اولاد میں سے کسی نے اسلام قبول کرنا ہوتا ہے۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۱۵ مورخه ۲۴ را پریل ۱۹۰۲ صفحه ۷ ) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : او لَمْ يَرَوْا أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ تَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا ہم دور دور سے زمین کو گھٹاتے چلے آتے ہیں ۔ یہ عادت اللہ ہے کہ اول عذاب ایسے لوگوں سے شروع ہوتا ہے جو دور دور ہوتے ہیں اور ضعیف اور کمزور ہوتے ہیں۔ بیوقوف یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ صرف انہیں کے لئے ہے ہمارے لئے نہیں مگر عذاب لپک کر ان تک پہنچتا ہے جن کو خبر نہیں ہوتی اور بے پرواہ ہوتے ہیں۔ خدا کی اس میں حکمتیں ہوتی ہیں ۔ چاہتا ہے کہ یہ اور شوخی کر لیں۔ البدر جلد نمبر ۶،۵ مورخه ۲۸ نومبر و ۱۵ دسمبر ۱۹۰۲ء صفحه ۳۷) وَ يَقُولُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَسْتَ مُرْسَلًا قُلْ كَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَ مَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْكِتَبِ یعنی جولوگ کہتے ہیں کہ تو خدا کا رسول نہیں ان کو کہہ دے کہ تم میں اور مجھ میں خدا گواہ کافی ہے اور نیز وہ جس کو کتاب کا علم ہے۔ (حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۵۴۹ ) ان ( پہلی ) کتابوں سے اجتہاد کرنا حرام نہیں ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا