تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 424
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام لد الد سورة الرعد اس کو کوئی ضائع نہیں کرتا یہاں تک کہ کوئی گھوڑا بیل یا گائے بکری اگر مفید ہو اور اس سے فائدہ پہنچتا ہو، کون ہے جو اس کو ذبح کر ڈالے لیکن جب وہ ناکارہ ہو جاتا ہے اور کسی کام نہیں آسکتا تو پھر اس کا آخری علاج وہی ذبح ہے اور یہ سمجھ لیتے ہیں کہ اگر اور نہیں تو دو چار روپیہ کو کھال ہی بک جائے گی اور گوشت بھی کام آجائے گا۔ اسی طرح پر جب انسان خدا تعالیٰ کی نظر میں کسی کام کا نہیں رہتا اور اس کے وجود سے کوئی فائدہ دوسرے لوگوں کو نہیں ہوتا تو پھر اللہ تعالیٰ اس کی پروا نہیں کرتا بلکہ خس کم جہاں پاک کے موافق اس کو ہلاک کر پروانہیں الحکم جلد ۸ نمبر ۱۱ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۵) دیتا ہے۔ جو چاہتا ہے کہ عمر زیادہ ہو ۔۔۔ اس کو لازم ہے کہ وہ کامل الایمان ہو اور اپنے وجود کو قابلِ قدر بناوے اور اس کی یہی صورت ہے کہ لوگوں کو نفع پہنچاوے اور دین کی خدمت کرے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَ أَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ ۔ یہ خوب یاد رکھو کہ عمر کھانے پینے سے لمبی نہیں ہو سکتی بلکہ اس کی اصل راہ وہی ہے جو میں نے بیان کی ہے۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۳۱ مورخه ۱۷ ستمبر ۱۹۰۴ صفحه ۴) ہر قسم کی راحت صحت عمر و دولت یہ سب اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں ہے۔ جب انسان کا وجود ایسا نافع اور سودمند ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو ضائع نہیں کرتا جیسے باغ میں کوئی درخت عمدہ پھل دینے والا ہو تو اسے باغبان کاٹ نہیں ڈالتا بلکہ اس کی حفاظت کرتا ہے اسی طرح نافع اور مفید وجود کو اللہ تعالیٰ بھی محفوظ رکھتا ہے جیسا کہ اس نے فرمایا ہے: وَ أَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ جولوگ دنیا کے لئے نفع رسان لوگ بنتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی عمریں بڑھا دیتا ہے یہ اللہ تعالیٰ کے وعدے ہیں جو سچے ہیں اور کوئی ان کو جھٹلا نہیں سکتا ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سچے اور فرمانبردار بندے ایسی بلاؤں سے محفوظ رہتے ہیں ۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۴۳، ۴۴ مورخه ۱۷ تا ۲۴ دسمبر ۱۹۰۴ء صفحه (۴) نافع چیز کو درازی عمر نصیب ہوتی ہے اور خدادین سے غافلوں کو ہلاکت میں ڈالنے سے پرواہ نہیں کرتا۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۵ مورخه ۱۰ فروری ۱۹۰۵ ء صفحه ۵ ) شریعت میں ہر ایک امر جو : مَا يَنْفَعُ النَّاسَ کے نیچے آئے اس کو دیر پا رکھا جاتا ہے۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۳۵ مورخه ۱۰ راکتوبر ۱۹۰۵ء صفحه (۳) اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ ان لوگوں کی ہمدردی کے لیے کس قدر میرے دل میں تڑپ اور جوش ہے اور میں حیران ہوں کہ کس طرح ان لوگوں کو سمجھاؤں ۔ یہ لوگ کسی طرح بھی مقابلہ میں نہیں آتے ۔ تین ہی راہیں ہیں