تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 394 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 394

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۴ سورة يوسف لكن أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ - ( البدر جلد ۳ نمبر ۱۸ ، ۱۹ مورخه ۸ تا ۱۶ رمتی ۱۹۰۴ و صفحه (۳) وَ لَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُ آتَيْنَهُ حُكْمًا وَ عِلْمًا وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ) اشد سے مراد ۔۔۔۔ نبوت نہیں ہے بلکہ یہ مراد ہے کہ جب ہوش میں آیا۔ اسد بھی دو قسم کی ہوتی ہے ایک وحی کی اشد اور دوسری جسمانی اشد ۔ البدر جلد نمبر ۲ مورخہ ۷ رنومبر ۱۹۰۲ صفحه ۱۲ ) وَ لَقَدْ هَمَّتْ بِهِ وَهَمَّ بِهَا لَوْ لَا أَنْ تَابُرْهَانَ رَبِّهِ كَذَلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءِ إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ ۔ فطرہ انسان کو شہوات نفسانیہ کا تعلق بہ نسبت مال کے تعلق کے بہت پیارا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مال کو جو اس کے نزدیک مدار آسایش ہے بڑی خوشی سے شہوات نفسانیہ کی راہ میں فدا کر دیتا ہے اور اس حالت کے خوفناک جوش کی شہادت میں یہ آیت کافی ہے: وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِ وَهَمَّ بِهَا لَوْلَا أَنْ تَا بُرْهَانَ رَبِّهِ یعنی یہ ایسا منہ زور جوش ہے جو اس کا فرو ہونا کسی برہان قوی کا محتاج ہے۔ ( براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۲۳۷) لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَ الْفَحْشَاء ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم نے یوسف پر احسان کیا تاہم اس سے بدی اور نخش کو روک دیں۔ ( براہین احمدیہ حصہ چہارم، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۶۶۱، ۶۶۲ حاشیه در حاشیہ نمبر (۴) قَالَ هِيَ رَاوَدَتْنِي عَنْ نَفْسِي وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ أَهْلِهَا إِنْ كَانَ قَبِيصُهُ قُدَّ مِنْ قَبْلِ فَصَدَقَتْ وَهُوَ مِنَ الْكَذِبِينَ یادر ہے کہ جب یوسف بن یعقوب پر زلیخا نے بے جا الزام لگایا تھا تو اس موقعہ پر خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے : وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ اَهْلِهَا یعنی زلیخا کے قریبیوں میں سے ایک شخص نے یوسف کی بریت کی گواہی دی ۔ ( براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۹۸)