تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 382 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 382

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۲ سورة هود عَظِيمٌ فِي شَقَاوَتِهِ وَسَعَادَتِهِ فَكَيْفَ میں چھوڑ دے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ ہر شقی وسعید کا پیدا يَتْرُكُ عَبْدًا ضَعِيفًا فِي عَذَابِ الْخُلُودِ مَعَ کرنے والا وہ خود ہے۔ بے شک انسان بہت کام کرتا ہے أَنَّهُ يَعْلَمُ أَنَّهُ خَالِقُ الشَّقِيِّ وَالْمَسْعُودِ لیکن سب سے پہلا فاعل خود اللہ ہے اور انسان اس کے وَالْعَبْدُ يَفْعَلُ أَفْعَالًا وَلكِنَّهُ أَوَّلُ ہاتھ کی صنعت ہے وہ سارے جہانوں کا صانع ہے۔ وہ الْفَاعِلِينَ، وَكُلُّ عَبْدٍ صُنْعُ يَدِهِ وَهُوَ رحیم بھی اور کریم ہے ۔ اس کی رحمت اس کے غضب پر صَانِعُ الْعَالَمِينَ وَإِنَّهُ رَحِيمٌ وَجَوَادٌ فائق ہے اور اس کی نرمی اس کی سختی پر سبقت لے گئی ہے وَ كَرِيمٌ ، سَبَقَتْ رَحْمَتُهُ غَضَبَهُ، وَرِفْقُهُ اور کوئی رحم کرنے والا اس کی برابری نہیں کر سکتا۔ پس وہ شِصْبَهُ، وَلَا يُسَاوِيهِ أَحَدٌ مِنَ الرَّاحِمِينَ انسان کو کلی طور پر فنانہیں کرے گا بلکہ آخر کار اور مصیبت فَلَا يُغْنِي كُلَّ الإِفْنَاءِ ، وَيَرْحَمُ فِي آخِرِ کے انتہا کو پہنچنے پر وہ ضرور رحم کرے گا۔ وہ دکھ دے کر الْأَمْرِ وَانْتِهَا الْبَلَاءِ ، وَلَا يَدُوسُ كُلَّ متشدد لوگوں کی طرح پورے طور پر پاؤں تلے نہیں روند تا الدَّوْسِ بِالْإِيذَا كَالْمُتَشَدِدِينَ، بَلْ بلکہ آخری ایام میں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے ہاتھ کو لمبا يَبْسُطُ فِي آخِرِ الْأَيَّامِ يَدَهُ رَأْفَةً وَ يَأْخُذُ کرے گا اور جہنمیوں کو مٹھی میں لے گا۔ پس تم اللہ تعالیٰ حُزْمَةً مِنَ النَّارِيِّينَ فَانْظُرُ إِلى يَدِ الله کے ہاتھ اور اس کی مٹھی کا تصور کرو۔ کیا اس کا ہاتھ عذاب وَحُزْمَتِهِ، هَلْ تُغَادِرُ أَحَدًا مِّنَ پانے والوں میں سے کسی کو جہنم میں چھوڑے گا۔ الْمُعَذِّبِينَ؟ انجام آتھم ، روحانی خزائن جلدا اصفحہ ۱۱۷ تا ۱۲۰ حاشیه ) ( ترجمه از مرتب) دوزخی دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے لیکن نہ وہ ہمیشگی جو خدا کو ہے بلکہ دُور دراز مدت کے لحاظ سے۔ پھر خدا کی رحمت دستگیر ہوگی کیونکہ وہ قادر ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اور اس آیت کی تصریح میں ہمارے سید و مولی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث بھی ہے اور وہ یہ ہے: يَأْتِي عَلَى جَهَنَّمَ زَمَانٌ لَّيْسَ فِيهَا أَحَدٌ وَنَسِيمُ الصَّبَا تُحَرِّكُ أَبْوَابَهَا ۔ یعنی جہنم پر ایک وہ زمانہ آئے گا کہ اُس میں کوئی بھی نہ ہوگا۔ اور نسیم صبا اُس کے کواڑوں کو ہلائے گی۔ لیکن افسوس کہ یہ قو میں خدا تعالیٰ کو ایک ایسا چڑ چڑا اور کینہ ور قرار دیتی ہیں کہ کبھی بھی اُس کا غصہ فرونہیں ہوتا اور بیشمار اربوں تک جونوں میں ڈال کر پھر بھی گناہ معاف نہیں کرتا ۔ لیکچر لاہور، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۷۰ ۱۷۱) خدا تعالی ۔۔۔۔ تعلیم دیتا ہے کہ کفار ایک مدت دراز تک عذاب میں رہ کر آخر وہ خدا تعالیٰ کے رحم سے