تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 381 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 381

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۱ سورة هود يُتْرَكُونَ كَالْأَعْمَى إِلَى الْأَبَدِ عَلى وَجْهِ اور ان کے معاملہ کا انجام خدا کے رحم اور ہدایت اور الْحَقِيقَةِ، وَيَكُونُ مَالُ أَمْرِهِمْ رُحم الله خدائے واحد کی معرفت پر ہوگا بعد اس کے کہ وہ اندھے وَالرُّشْدَ وَمَعْرِفَةَ الْحَضْرَةِ الْأَحَدِيَّةِ بَعْدَ لوگ تھے ۔ اور ہم یہ بھی اعتقاد رکھتے ہیں کہ عذاب جہنم کا مَا كَانُوا قَوْمًا عَمِينَ وَنَعْتَقِدُ أَنَّ خُلُودَ دوام رب الارباب کی ذات کے دوام کی طرح نہیں ہے بلکہ الْعَذَابِ لَيْسَ كَخُلُودِ ذَاتِ اللهِ رَبِّ ہر عذاب کے لئے ایک حد مقرر ہے اور ہر ایک لعنت کے الْأَرْبَابِ، بَلْ لِكُلِّ عَذَابِ انْتِهَاءُ، وَبَعْدَ بعد رحمت اور پناہ دینا ہے اور اللہ تعالیٰ یقیناً سب رحم كُلَّ لَعْنٍ رُحْم وَإِبْوَاهُ ، وَإِنَّ اللهَ أَرْحَمُ کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔ بایں ہمہ الرَّاحِمِينَ، وَمَعَ ذَالِكَ لَيْسُوا سَوَاءٌ في وہ لوگ نجات کے درجات میں برابر نہیں ہوں گے بلکہ مَدَارِجِ التَّجَاةِ، بَلِ اللهُ فَضَّلَ بَعْضَهُمْ خدا تعالیٰ نے (جہنم سے نکلنے والے ) بعض لوگوں کو عَلَى بَعْضٍ فِي الدَّرَجَاتِ وَالْمَثُوبَاتِ، وَمَا بعض پر ثواب اور درجہ میں فضیلت دی ہے۔ اور اس کے يَرِدُ عَلَى فِعْلِهِ شَيْءٌ مِنَ الْإِيرَادَاتِ، إِنَّهُ اس فعل پر کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ مالک الملک مَالِكُ الْمُلْكِ فَأَعْطَى بَعْضَ عِبَادِهِ أَعْلَی ہے۔ اس نے اپنے بعض بندوں کو کمالات کے اعلیٰ مراتب الْمَرَاتِبِ فِي الْكَمَالَاتِ، وَبَعْضَهُمْ دُونَ بخشے ہیں اور بعض کو ان سے کم درجہ کے فضل عطا کئے ہیں ذَالِكَ مِنَ التَّفَضَّلَاتِ لِيُثْبِتَ أَنَّهُ هُوَ تا وہ ثابت کرے کہ وہ مالک ہے جو چاہے کر سکتا ہے اس الْمَالِكِ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ ، لَيْسَ فِيهِ میں مخلوق کے حقوق میں سے کسی قسم کی حق تلفی نہیں جب إِخْلَافُ حَقٍ مِنْ حُقُوقِ الْمَخْلُوقِينَ وَلَمَّا که خدا تعالیٰ کا وجود ہر علت کی علت اور ہر حرکت و ا و سکون كَانَ وُجُودُ اللهِ تَعَالَى عِلَّةً لِكُلِّ عِلَّةٍ کا مبدء ہے اور وہ ہر ایک جان پر قائم اور نگران ہے۔ تو وَمَبْدَةً لِكُلِّ سُكُونٍ وَحَرَكَةٍ، وَهُوَ قَائِم یہ بات درست نہ ہو نہ ہوگی کہ اس جناب کی طرف ہمیشہ عَلَى كُلِّ نَفْسٍ، فَلَيْسَ مِنَ الصَّوَابِ أَنْ عذاب دینا منسوب کیا جائے حالانکہ بندہ ہر ایک لحاظ يُعْزَى إِخْلَادُ الْعَذَابِ إِلى هَذَا الْجَنَابِ سے مختار بھی نہیں ہے بلکہ وہ اللہ خالق المخلوقات اور وَمَا كَانَ الْعَبْدُ مُخْتَارًا مِنْ جَمِيعِ الْجِهَاتِ، قیوم الکائنات کی قضا کے نیچے ہے۔ اور انسان کی ہر ایک بَلْ كَانَ تَحْتَ قَضَاءِ اللهِ خَالِقِ الْمَخْلُوقَاتِ قوت اللہ کے ہاتھ اور اس کے ارادہ سے پیدا ہوتی ہے وَقَيُّوْمِ الْكَائِنَاتِ، وَكَانَ كُلُّ قُوتِهِ اور اسے انسان کے شقی اور سعید ہونے میں بڑا دخل ہے۔ مَفْطُورَةً مِنْ يَدِهِ وَمِنْ إِرَادَتِهِ، فَلَهُ دَخْلٌ پر کس طرح ممکن ہے کہ وہ ضعیف انسان کو دائمی عذاب