تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 374
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷۴ سورة هود تو تم جان لو کہ یہ کلام علم انسان سے نہیں بلکہ خدا کے علم سے نازل ہوا ہے۔ جس کے علم وسیع اور تام کے مقابلہ پر علوم انسانیہ بے حقیقت اور بیچ ہیں ۔ اس آیت میں برہانِ انّی کی طرز پر اثر کے وجود کو مؤثر کے وجود کی دلیل ٹھہرائی ہرائی ۔ ہے جس کا دوسرے لفظوں میں خلاصہ مطلب یہ ہے کہ علم الہی بوجہ اپنی کمالیت اور جامعیت کے ہرگز انسان کے ناقص علم سے متشابہ نہیں ہو سکتا۔ بلکہ ضرور ہے کہ جو کلام اس کامل اور بے مثل علم سے نکلا ہے۔ وہ بھی کامل اور بے مثل ہی ہو۔ اور انسانی کلاموں سے بکلی امتیاز رکھتا ہو۔ سو یہی کمالیت قرآن شریف میں ثابت ہے۔ غرض خدا کے کلام کا انسان کے کلام سے ایسا فرق بین چاہئے ۔ جیسا خدا اور انسان کے علم اور عقل اور قدرت میں فرق ہے۔ جس حالت میں افراد انسانی نوع واحد میں داخل ہو کر پھر بھی بوجہ تفاوت علم اور عقل اور تجربہ اور مشق کے متفاوت البیان پائی جاتی ہیں اور وسیع العلم اور قوی العقل کے فکر رسا تک محدود العلم اور ضعیف العقل ہر گز نہیں پہنچ سکتا تو پھر خدا جو شرکت نوعی سے بکلی پاک اور بلا شبہ متجمع کمالات تامہ اور اپنی جمیع صفات میں واحد لاشریک ہے اس سے مساوات کسی ذرہ امکان کی کیوں کر جائز ہو اور کیوں کر کوئی مخلوق ہو کر خالق کے علوم غیر متناہیہ ۔ رمتناہیہ سے اپنے پیچ اور ناچیز علم کو برابر کر سکے۔ کیا اس صداقت کے ثابت ہونے میں ابھی کچھ کسر رہ گئی ہے کہ کلام کی تمام ظاہری باطنی شوکت و عظمت علمی طاقتوں اور عملی قدرتوں کے تابع ہے۔ کیا کوئی ایسا انسان بھی ہے جس نے اپنے ذاتی تجربہ اور مشاہدہ سے کسی جزئی میں اس سچائی کو دیکھ نہیں لیا ؟ پس جبکہ یہ صداقت اس قدر قوی اور مستحکم اور شائع اور متعارف ہے کہ کسی درجہ کی عقل اس کے سمجھنے سے قاصر نہیں تو اس صورت میں نہایت درجہ کا نادان وہ شخص ہے کہ جو افراد نا قصہء انسانی میں تو اس صداقت کو مانتا ہے مگر اس ذات کامل کے کلام مقدس میں جس کا اپنے علوم تامہ میں یکتا اور بے نظیر ہونا سب کے نزدیک مسلم ہے صداقت مذکورہ کے ماننے سے مونہہ پھیرتا ہے۔ ( براہین احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۱۵ تا ۷ ۲۴) وَ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَ وَحْيِنَا وَ لَا تُخَاطِبُنِي فِي الَّذِينَ ظَلَمُوا إِنَّهُمُ ورچور مغرقون ۔ میری آنکھوں کے سامنے کشتی بنا اور ظالموں کی شفاعت کے بارے میں مجھ سے کوئی بات نہ کر کہ میں ان کو غرق کروں گا۔ خدا نے نوح کے زمانہ میں ظالموں کو قریباً ایک ہزار سال تک مہلت دی تھی اور اب بھی خیر القرون کی تین صدیوں کو علیحدہ رکھ کر ہزار برس ہی ہو جاتا ہے۔ اس حساب سے اب یہ زمانہ اس