تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 334
<mark>تفسیر</mark> حضرت <mark>مسیح</mark> <mark>موعود</mark> علیہ السلام ۳۳۴ سورة يونس جولوگ ارادت سے رجوع کرتے ہیں ان کا عمل مقبول ہے اور ان کے لئے قدم صدق ہے۔مکتوبات جلد ۵ نمبر ۵ صفحه ۱۰ مکتوب بنام حضرت منشی احمد جان صاحب) اِنَّ رَبَّكُمُ اللهُ الَّذِى خَلَقَ السَّمَوتِ وَالْاَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُدير الأمرَ مَا مِنْ شَفِيعٍ إِلاَ مِنْ بَعْدِ إِذْنِهِ ذَلِكُمُ اللهُ رَبُّكُم فَاعْبُدُوهُ أَفَلَا تَذَكَرُونَ ) اس جگہ کے متعلق ایک اور اعتراض ہے جو بعض نا واقف آریہ پیش کیا کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اِنَّ رَبَّكُمُ اللهُ الَّذِى خَلَقَ السَّبُوتِ وَالْاَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى العرش یعنی خدا نے جو تمہارا رب ہے زمین اور آسمانوں کو چھ دن میں بنایا اور پھر عرش پر ٹھہرا۔یہ چھ دن کی کیوں تخصیص ہے یہ تو تسلیم کیا کہ خدا تعالیٰ کے کام اکثر تدریجی ہیں جیسا کہ اب بھی اس کی خالقیت جو جمادات اور نباتات اور حیوانات میں اپنا کام کر رہی ہے تدریجی طور پر ہی ہر ایک چیز کو اس کی خلقت کاملہ تک پہنچاتی ہے لیکن چھ دن کی تخصیص کچھ سمجھ میں نہیں آتی۔اما الجواب پس واضح ہو کہ یہ چھ دن کا ذکر در حقیقت مراتب تکوینی کی طرف اشارہ ہے یعنی ہر یک چیز جو بطور خلق صادر ہوئی ہے اور جسم اور جسمانی ہے خواہ وہ مجموعہ عالم ہے اور خواہ ایک فرد از افراد عالم اور خواہ وہ عالم کبیر ہے جو زمین و آسمان ومافیہا سے مراد ہے اور خواہ وہ عالم صغیر جو انسان سے مراد ہے وہ بحکمت و قدرت باری تعالی پیدائش کے چھ مرتبے طے کر کے اپنے کمال خلقت کو پہنچتی ہے اور یہ عام قانون قدرت ہے کچھ ابتدائی زمانہ سے خاص نہیں چنانچہ اللہ جل شانہ ہر ایک انسان کی پیدائش کی نسبت بھی انہیں مراتب ستہ کا ذکر فرماتا ہے جیسا کہ قران کریم کے اٹھارویں سیپارے سورۃ المومنون میں یہ آیت ہے : وَلَقَدْ خَلَقْنَا الإِنسَانَ مِن سُللَةٍ مِن طِينٍ - ثُمَّ جَعَلْنَهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مكين - ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَمًا فَكَسَوْنَا الْعِظَمَ لَحْمًا ثُمَّ أَنْشَانَهُ خَلْقًا أَخَرَ فَتَبَرَكَ الله اَحْسَنُ الْخَلِقِينَ - (المؤمنون : ۱۳ تا ۱۵) یعنی پہلے تو ہم نے انسان کو اس مٹی سے پیدا کیا جو زمین کے تمام انواع اور اقسام کا لب لباب تھا اور اس کی تمام قوتیں اپنے اندر رکھتا تھا تا وہ باعتبار جسم بھی عالم صغیر ٹھہرے اور زمین کی تمام چیزوں کی اس میں قوت اور خاصیت ہو جیسا کہ وہ برطبق آیت : فَإِذَا سَوَيْتُه وَ