تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 292 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 292

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۲ سورة التوبة اگر کوئی مشرک قرآن شریف کو سننا چاہے تو اس کو اپنی پناہ میں لے آؤ جب تک وہ کلام الہی کو سنے پھر اس کو اسی کے مامن میں پہنچادو اور اس آیت کے آگے یہ آیت ہے ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لا يَعْلَمُونَ یعنی ہی یہ رعایت جنگ مقدس، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۶۳، ۲۶۴) اس لیے ہے کہ یہ قوم بے خبر ہے۔ اگر لڑائی کے ایام میں کوئی شخص مشرکوں میں سے خدا کے کلام کو سننا چاہے تو اس کو پناہ دے دو جب تک کہ وہ خدا کے کلام کو سن لے اور پھر اس کو اپنے امن کی جگہ میں پہنچا دو کیونکہ وہ ایک جاہل قوم ہے اور نہیں چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۹۳) جانتے کہ وہ کس سے لڑائی کر رہے ہیں ۔ كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ عِنْدَ اللهِ وَ عِنْدَ رَسُولِهِ إِلَّا الَّذِينَ عُهَدتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَمَا اسْتَقَامُوا لَكُمْ فَاسْتَقِيمُوا لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ ۔ كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ عِنْدَ اللهِ وَ عِنْدَ رَسُولِهِ جس کا مطلب یہی ہے کہ بعد عہدوں کے توڑنے کے ان کے قول و اقرار کا کیا اعتبار رہا۔ جنگ مقدس، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه (۲۶۴) لَا يَرْقُبُونَ فِي مُؤْمِنٍ إِلَّا وَلَا ذِمَّةً وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُعْتَدُونَ یہ مشرک نہ کسی عہد کا پاس کرتے ہیں اور نہ کسی قرابت کا اور حد سے نکل جانے والے ہیں ۔ جنگ مقدس، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه (۲۶۴) وَ إِنْ تَكَثُوا أَيْمَانَهُمْ مِنْ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَ طَعَنُوا فِي دِينِكُمْ فَقَاتِلُوا ائِمَّةَ الْكُفْرِ إِنَّهُمُ لَا أَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُونَ أَلَا تُقَاتِلُونَ قَوْمًا تَكَثُوا أَيْمَانَهُمْ وَ هَمُوا بِإِخْرَاجِ الرَّسُولِ وَهُمْ بَدَءُوكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ اتَخْشَوْنَهُمْ فَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ تَخْشَوهُ إِنْ كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ۔ یہ نہایت درجہ کا ظلم ہے کہ اسلام کو ظالم کہا جاتا ہے حالانکہ ظالم وہ خود ہیں جو تعصب کی وجہ سے بے سوچے سمجھے اسلام پر بے جا اعتراض کرتے ہیں اور باوجود بار بار سمجھانے کے نہیں سمجھتے کہ اسلام کے کل