تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 280 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 280

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۰ سورة الانفال لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ یعنی اللہ تعالیٰ کو کثرت سے یاد کرو تا کہ تم فلاح پا جاؤ ۔ جس طرح پر ذہنی تعلق ہوتا ہے اور کثرت تکرار ایک بات کو حافظہ میں محفوظ کر دیتی ہے اسی طرح ایک روحانی تعلق بھی ہے اس میں بھی تکرار کی حاجت ہے۔ بدوں تکرا ر وہ روحانی پیوند اور رشتہ قائم نہیں رہتا۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۴۰ مورخه ۱۷ نومبر ۱۹۰۵ صفحه ۹) اصل غرض یہی ہوتی ہے کہ تا مخلوق کو نفع پہنچے۔ وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا کے یہ معنی ہیں یعنی اس قدر ذکر کرو کہ گویا اللہ تعالیٰ کا نام کنٹھ ہو جاوے۔ انبیاء علیہم السلام کے طرز کلام میں یہ بات عام ہوتی ہے کہ وہ ایک امر کو بار بار اور مختلف طریقوں سے بیان کرتے ہیں ان کی الحکم جلد ۹ نمبر ۴۰ مورخه ۱۷ نومبر ۱۹۰۵ صفحه ۹) وَ أَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ وَاصْبِرُوا إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّبِرِينَ اسلامی فرقوں میں دن بدن پھوٹ پڑتی جاتی ہے، پھوٹ اسلام کے لیے سخت مضر ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : لَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَ تَذْهَبَ رِيحُكُمْ - جب سے اسلام کے اندر پھوٹ پڑی ہے دم بدم تنزل کرتا جاتا ہے۔ اس لیے خدا نے اس سلسلہ کو قائم کیا تا لوگ فرقہ بندیوں سے نکل کر اس جماعت میں شامل ہوں جو بے ہودہ مخالفتوں سے بالکل محفوظ ہے اور اس سیدھے رستے پر چل رہی ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا۔ ( بدر جلد نمبر ۱۹ ، ۲۰ مورخه ۲۴ مئی ۱۹۰۸ ء صفحه ۴) وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ خَرَجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بَطَرًا وَ رِئَاءَ النَّاسِ وَ يَصُدُّونَ عَنْ و سَبِيلِ اللهِ وَاللَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ یعنی بہادر وہ ہیں کہ ۔۔۔۔ جب دیکھتے ہیں کہ دشمن کا مقابلہ قرین مصلحت ہے تو نہ صرف جوش نفس سے بلکہ سچائی کی مدد کے لیے دشمن کا مقابلہ کرتے ہیں مگر نہ اپنے نفس کا بھروسہ کر کے بلکہ خدا پر بھروسہ کر کے بہادری دکھاتے ہیں اور ان کی شجاعت میں ریا کاری اور خود بینی نہیں ہوتی اور نہ نفس کی پیروی بلکہ ہر ایک پہلو سے خدا کی رضا مقدم ہوتی ہے۔ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۵۹)