تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 279 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 279

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۹ سورة الانفال سے تو صرف اس قدر پایا جاتا ہے کہ اس حد تک لڑو کہ ان کا زور ٹوٹ جائے اور شرارت اور فساد اُٹھ جائے اور بعض لوگ جیسے خفیہ طور پر اسلام لائے ہوئے ہیں ظاہر بھی اسلامی احکام ادا کر سکیں ۔ اگر اللہ جل شانہ کا ایمان بالجبر منشا ہوتا جیسا کہ ڈپٹی صاحب سمجھ رہے ہیں تو پھر جزیہ اور صلح اور معاہدات کیوں جائز رکھے جاتے مسلمانوں کے زیر سایہ امن کے ساتھ بسر کریں۔ اور کیا وجہ تھی کہ یہود اور عیسائیوں کے لیے یہ اجازت دی جاتی کہ وہ جزیہ دے کر امن میں آجائیں اور جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۶۳) إِذْ أَنْتُم بِالْعُدُوَةِ الدُّنْيَا وَهُمْ بِالْعُدُوَةِ الْقُصُوى وَالرَّكْبُ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَ لَوْ تَوَاعَدُتُّمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِي الْمِيعْدِ وَلكِنْ لِيَقْضِيَ اللَّهُ أَمْرًا كَانَ مَفْعُولًا لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَ يَحْيَى مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ وَ إِنَّ اللَّهَ لَسَمِيعُ عَلِيمٌ يَضَعُ الْحَرْبَ کا لفظ ہی کسر صلیب کی حقیقت کو بتاتا ہے کہ اس سے مراد ۔۔۔۔ لکڑی یا دوسری چیزوں کی صلیبوں کو توڑنا نہیں بلکہ صلیبی ملت کی شکست ہے اور ملت کی شکست بینہ اور براہین سے ہو گی جیسا کہ الا ہوگی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ - الحکم جلدے نمبر ۴ مورخہ ۳۱ جنوری ۱۹۰۳ ءصفحہ ۲) لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَ يَحْيِي مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ - جو ہلاک ہو وہ بھی بین آیات دیکھ کر ہلاک ہو اور جو زندہ ہو وہ بھی بین آیات دیکھ کر زندہ ہو۔ البدر جلد ۳ نمبر ۲۶ مورخه ۸ جولائی ۱۹۰۴ ء صفحه (۴) يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا لَقِيتُم فِئَةً فَاثْبُتُوا وَ اذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمُ تُفْلِحُونَ انسانی فطرت میں ہے کہ جب تک بار بار ایک بات کو دہرائے نہیں ! وہ یاد نہیں ہوتی ۔ سُبْحَانَ رَبِّي الْأَعْلَى اور سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِیمِ بار بار کیوں کہلوایا ؟ ایک بار ہی کافی تھا۔ نہیں ! اس میں یہی سر ہے کہ کثرت تکرار اپنا ایک اثر ڈالتی ہے اور غافل سے غافل قوتوں میں بھی ایک بیداری پیدا کر دیتی ہے۔ اسی