تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 250
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام الوہیت کی چادر میں لپٹا ہوا پڑا تھا۔ یعنی آپ تمام جہان کے رسول ہیں ۔ ۲۵۰ سورة الاعراف الحکم جلد ۶ نمبر ۲۶ مورخہ ۲۴ جولائی ۱۹۰۲ء صفحہ ۸) ( بدر جلدی نمبر ۲۵ مورخه ۲۵ جون ۱۹۰۸ ء صفحه (۶) وَ إِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْهِمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ مَنْ يَسُومُهُمُ سُوءَ الْعَذَابِ إِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيعُ الْعِقَابِ وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ ۔ خدا نے یہود کے لئے ہمیشہ کے لئے یہ وعدہ کیا ہے کہ ایسے بادشاہ اُن پر مقرر کرتا رہے گا جو انواع واقسام کے عذاب ان کو دیتے رہیں گے۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بڑی وجہ یہود کے مغضوب علیھم ہونے کی یہی ہے کہ انہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو سخت ایذا دی، اُن کی تکفیر کی ، اُن کی تفسیق کی ، ان کی تو ہین کی ، ان کو مصلوب قرار دیا تا وہ نعوذ باللہ ! لعنتی قرار دیئے جائیں اور ان کو اس حد تک دُکھ دیا کہ حسب منطوق آیت : وَ قَوْلِهِمْ عَلَى مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيمًا (النساء : ۱۵۷) اُن کی ماں پر بھی سخت بہتان لگایا۔ غرض جس قدر ایزا کی قسمیں ہو سکتی ہیں کہ تکذیب کرنا ، گالیاں دینا اور افترا کے طور پر کئی تہمتیں لگانا اور کفر کا فتوی دینا اور ان کی جماعت کو متفرق کرنے کے لئے کوشش کرنا اور حکام کے حضور میں ان کی نسبت جھوٹی مخبریاں کرنا اور کوئی دقیقہ توہین کا نہ نہ توہین کا نہ چھوڑنا اور بالآخر قتل کیلئے آمادہ ہونا یہ سب کچھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت یہود بد قسمت سے ظہور میں آیا اور آیت : وَ جَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ (آل عمران : ۵۲ ) کو غور سے پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ آیت : ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَ الْمَسْكَنَةُ ( البقرۃ : ۶۲ ) کی سزا بھی حضرت مسیح کی ایذا کی وجہ سے ہی یہود کو دی گئی ہے۔ کیونکہ آیت موصوفہ بالا میں یہود کے لئے یہ دائمی وعید ہے کہ وہ ہمیشہ محکومیت میں جو ہر ایک عذاب اور ذلت کی جڑ ہے زندگی بسر کریں گے جیسا کہ اب بھی یہود کی ذلت کے حالات کو دیکھ کر یہ ثا یہ ثابت ہوتا ہے کہ اب تک خدا تعالیٰ کا وہ غصہ نہیں اُترا جو اُس وقت بھڑ کا تھا جبکہ ثابہ اُس وجیہ نبی کو گرفتار کرا کر مصلوب کرنے کے لئے کھو پری کے مقام پر لے گئے تھے اور جہاں تک بس چلا تھا ہر ایک قسم کی ذلت پہنچائی تھی اور کوشش کی گئی تھی کہ وہ مصلوب ہو کر تو ریت کی نصوص صریحہ کے رُو سے ملعون سمجھا جائے اور اُس کا نام اُن میں لکھا جائے جو مرنے کے بعد تحت الثریٰ کی طرف جاتے ہیں اور خدا کی طرف اُن کا رفع نہیں ہوتا۔ (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۱۹۷ تا ۲۰۰)