تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 249 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 249

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۹ سورة الاعراف سے ہی شروع ہوئی اور مسیح موعود کے زمانہ میں اس کے ہاتھ سے کمال تک پہنچی ۔ چشمه معرفت ، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۷۷،۷۶) نہ حضرت عیسی نے اور نہ حضرت موسیٰ نے کبھی یہ دعویٰ کیا کہ وہ تمام دنیا کے واسطے رسول ہو کر آئے تھے بلکہ وہ تو صرف اسرائیلی بھیڑوں تک ہی اپنی تعلیم محدود کرتے ہیں ان کا اپنا اقرار موجود ہے لیے پس بلحاظ ضرورت کے ان کو جو کتاب ملی وہ بھی ایک قانون مختص الزمان اور مختص القوم تھا۔ اب ظاہر ہے کہ ایک چیز جو ایک خاص ضرورت کے لیے ایک خاص زمانے اور مکان کے واسطے آئی تھی ، اس کو ز بر دستی اور خواہ نخواہ تمام دنیا پر محیط ہونے کے واسطے کھینچ تان کی جائے گی تو اس کا لاز ما یہی نتیجہ ہوگا کہ وہ اس کام سے عاری رہے گی ۔ اور اس بوجھ کے اُٹھانے کے واسطے وہ وضع ہی نہیں کی گئی اس کی کیسے متحمل ہو سکے گی؟ اور یہی وجہ ہے کہ ان تعلیمات میں موجودہ زمانہ کے حالات کے ماتحت نقص ہیں مگر قرآن مجید مختص الزمان نہیں مختص القوم نہیں اور نہ ہی مختص المکان ہے بلکہ اس کامل اور مکمل کتاب کے لانے والے کا دعوی ہے کہ : إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُم جَمِيعًا اور ایک دوسری آیت میں یوں بھی آیا ہے : لِأُنْتِ رَكُم بِهِ وَ مَنْ بلغ (هود : ۵۶ ) یعنی لازمی ہو گا کہ جس کو قرآنی تعلیم پہنچے وہ خواہ کہیں بھی ہو اور کوئی بھی ہو اس تعلیم کی پیروی کو اپنی گردن پر اٹھائے۔ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۱ ۴ مورخہ ۱۴ جولائی ۱۹۰۸ صفحہ ۷) رودرو رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ( جیسے یہ دعویٰ کیا تھا کہ : إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا اس دعویٰ کے مناسب حال یہ ضروری تھا کہ کل دنیا کے مکر و مکاید متفق طور پر آپ کی مخالفت میں کیے جاتے ۔ آپ نے کس حوصلہ اور دلیری کے ساتھ مخالفوں کو مخاطب کر کے کہا کہ فکیدُونِی جَمِيعًا (هود : ۵۶) یعنی کوئی دقیقہ مکر کا باقی نہ رکھو سارے فریب مکر استعمال کر قتل کے منصوبے کرو اخراج اور قید کی تدبیریں کر دیگر یا درکھو : سيهزم الْجَمْعُ وَ يُولُونَ الله الدبر ( القمر : آخر (۴۶) آخر فتح میری ہے تمہار ہارے ۔ سارے منصوبے خاک میں مل جاویں گے تمہاری ساری جماعتیں منتشر اور پراگندہ ہو جاویں گی اور پیٹھ دے نکلیں گی جیسے وہ عظیم الشان دعوی : انی رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا کسی نے نہیں کیا اور جیسے : فَكِيدُونِي جَمِيعًا کہنے کو کسی کی ہمت نہ ہوئی یہ بھی کسی ر ورور الدبر ) ،، کے منہ سے نہ نہ نا نکلا سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ يُوَلُّونَ الدُّبُرَ الدبر ۔ ۔ یہ الفاظ اسی منہ سے نکلے جو خدا تعالیٰ کے سائے کے نیچے کے بدر سے : چنانچہ حضرت عیسیٰ نے خود کہا کہ میں بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی کی طرف نہیں بھیجا گیا قرآن مجید سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے : کہ ہے : رَسُولًا إِلى بَنِي إِسْرَاءِيلَ (ال عمران :۵۰) ۔ ( بدر جلدے نمبر ۲۵ مورخه ۲۵ جون ۱۹۰۸ ء صفحه ۶ )