تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 219
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱۹ سورة الاعراف ہے ہم لوگ جو خدا تعالیٰ کو رب العرش کہتے ہیں تو اس سے یہ مطلب نہیں کہ وہ جسمانی اور جسم ہے اور عرش کا محتاج ہے بلکہ عرش سے مراد وہ مقدس بلندی کی جگہ ہے جو اس جہان اور آنے والے جہان سے برابر نسبت رکھتی ہے اور خدا تعالیٰ کو عرش پر کہنا درحقیقت ان معنوں سے من اسے مترادف ہے کہ وہ مالک الکونین ہے اور جیسا کہ ایک شخص اونچی جگہ بیٹھ کر یا کسی نہایت اونچے محل پر چڑھ کر یمین و یسار نظر رکھتا ہے۔ ایسا ہی استعارہ کے طور پر خدا تعالیٰ بلند سے بلند تخت پر تسلیم کیا گیا ہے جس کی نظر سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں نہ اس عالم کی اور نہ اس دوسرے عالم کی ۔ ہاں ! اس مقام کو عام سمجھوں کے لئے اوپر کی طرف بیان کیا جاتا ہے کیونکہ جبکہ خدا تعالیٰ حقیقت میں سب سے اوپر ہے اور ہر یک چیز اس کے پیروں پر گری ہوئی ہے تو اوپر کی طرف سے اس کی ذات کو مناسبت ہے مگر اوپر کی طرف وہی ہے جس کے نیچے دونوں عالم واقع ہیں اور وہ ایک انتہائی نقطہ کی طرح ہے جس کے نیچے سے دو عظیم الشان عالم کی دو شاخیں نکلتی ہیں اور ہر یک شاخ ہزار ہا عالم پر مشتمل ۔ جن کا علم بجز اس ذات کے کسی کو نہیں جو اس نقطہ انتہائی پر مستوی ہے جس کا نام عرش ہے اس لئے ظاہری طور پر بھی وہ اعلیٰ سے اعلیٰ بلندی جو اوپر کی سمت میں اس انتہائی نقطہ میں متصور ہو۔ جو دونوں عالم کے اوپر ہے وہی عرش کے نام سے عند الشرع موسوم ہے اور یہ بلندی باعتبار جامعیت ذاتی باری کی ہے تا اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ وہ مبدء ہے ہر یک فیض کا اور مرجع ہے ہر یک چیز کا اور مسجود ہے ہر ایک مخلوق کا اور سب سے اونچا ہے اپنی ذات میں اور صفات میں اور کمالات میں ورنہ قرآن فرماتا ہے کہ وہ ہر یک جگہ ہے جیسا کہ فرمایا : أَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللهِ ( البقرة : ۱۱۶) جدھر منہ پھیرو ادھر ہی خدا کا منہ ہے اور فرماتا ہے : هُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنْتُمُ ( الحديد : ۵ ) یعنی جہاں تم ہو وہ تمہارے ساتھ ہے اور فرماتا ہے: نَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ (قی : ۱۷ ) یعنی ہم انسان سے اس کی رگ جان سے بھی زیادہ نزدیک ہیں یہ تینوں تعلیموں کا نمونہ ہے۔ ) ست بچن، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۰۰) عرش اللہ تعالیٰ کی جلالی و جمالی صفات کا مظہر اتم ہے۔ عرش کے مخلوق یا غیر مخلوق کے متعلق میں ۔ کچھ نہیں کہتا۔ اس کی تفصیل حوالہ بخدا کرنی چاہیے۔ جنہوں نے مخلوق کہا ہے انہوں نے بھی غلطی کھائی ہے کیونکہ پھر اس سے وہ محدود لازم آتا ہے اور جو غیر مخلوق کہتے ہیں وہ توحید کے خلاف کہتے ہیں کیونکہ الَّذِی خَلَقَ محل شی اگر یہ غیر مخلوق ہو تو پھر راس اس سے سے ، باہر رہ جاتا ہے۔ مومن موحد موحد اس اس کو کو تسلیم نہیں کر سکتا۔ ہم اس کے متعلق کچھ نہیں کہتے اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ یہ ایک استعارہ ہے جیسے افطر و اصوم یا اخطئ و اصیب فرمایا اریہ