تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 218
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱۸ سورة الاعراف خدا تعالیٰ نے تمام اجرام سماوی وارضی پیدا کر کے پھر اپنے وجود کو وراء الوراء مقام میں مخفی کیا جس کا نام عرش ہے اور یہ ایسا نہاں در نہاں مقام ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کی چار صفات ظہور پذیر نہ ہوتیں جو سورۃ فاتحہ کی پہلی آیات میں ہی درج ہیں تو اس کے وجود کا کچھ پتہ نہ لگتا یعنی ربوبیت ، رحمانیت ، رحیمیت ، مالک یوم الجزاء ہونا ۔ سو یہ چاروں صفات استعارہ کے رنگ میں چار فرشتے خدا کی کلام میں قرار دیئے گئے ہیں جو اس کے عرش کو اٹھا رہے ہیں یعنی اس وراء الوراء مقام میں جو خدا ہے اس مخفی مقام سے اس کو دکھلا رہے ہیں ورنہ خدا کی شناخت کے لئے کوئی ذریعہ نہ تھا۔ چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۷۹ حاشیه ) عرش کا کلمہ خدا تعالیٰ کی عظمت کے لیے آتا ہے ۔ کیونکہ وہ سب اونچوں سے زیادہ اونچا اور جلال رکھتا ہے یہ نہیں کہ وہ کسی انسان کی طرح کسی تخت کا محتاج ہے۔ خود قرآن میں ہے کہ ہر ایک چیز کو اس نے تھاما ہوا ہے اور وہ قیوم ہے جس کو کسی چیز کا سہارا نہیں ۔ کا استفتاء، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۱۱۶، ۱۱۷) خدا تعالیٰ نے یونانیوں کی محدود کی طرح اپنے عرش کو قرار نہیں دیا اور نہ اس کو محدود قرار دیا ۔ ہاں ! اس کو اعلیٰ سے اعلیٰ ایک طبقہ قرار دیا ہے جس سے باعتبار اس کی کیفیت اور کمیت کے اور کوئی اعلیٰ طبقہ نہیں ہے اور یہ امر ایک مخلوق اور موجود کے لیے متنع اور محال نہیں ہو سکتا ۔ بلکہ نہایت قرین قیاس ہے کہ جو طبقہ عرش اللہ کہلاتا ہے وہ اپنی وسعتوں میں خدائے غیر محدود کے مناسب حال اور غیر محدود ہو۔ ( آئینہ کمالات اسلام ، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۴۸، ۱۴۹ حاشیه در حاشیه ) وَحَقِيقَةُ الْعَرْشِ وَاسْتِوَاءُ الله اور عرش کی حقیقت اور اللہ تعالیٰ کا اس پر مستوی ہونا عَلَيْهِ سِرٌّ عَظِيمٌ مِّنْ أَسْرَارِ اللهِ تَعَالَی الہی اسرار میں سے ایک بہت بڑا سر ہے اور ایک بلیغ وَحِكْمَةٌ بَالِغَةٌ وَمَعْنَى رُوحَانِي وَسُمي حکمت اور روحانی معنی پر مشتمل ہے اور اس کا نام عرش اس عَرْشًا لِتَفْهِيْمِ عُقُولِ هَذَا الْعَالَمِ لیے رکھا گیا ہے۔ تا اس جہان کے اہل عقل کو اس کا مفہوم وَلِتَقْرِيبِ الْأَمْرِ إِلَى اسْتِعْدَادَاتِهِمْ سمجھایا جائے اور اس بات کا سمجھنا ان کی استعدادوں کے وَهُوَ وَاسِطَةٌ فِي وُصُولِ الْفَيْضِ الْإِلهِي قریب کر دیا جائے اور وہ (عرش) الہی فیض اور اللہ وَالتَّجَلِي الرَّحْمَانِي مِنْ حَضْرَةِ الْحَقِّ إِلَى تعالیٰ کی رحمانی تجلی کو ملائکہ تک پہنچانے میں واسطہ ہے اور الْمَلَائِكَةِ وَمِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَى الرُّسُلِ اسی طرح ملائکہ سے رسولوں تک پہنچانے کا ذریعہ ہے۔ (کرامات الصادقين، روحانی خزائن جلدے صفحہ ۱۲۹) ( ترجمه از مرتب )