تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 202 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 202

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۲ سورة الاعراف نمک کی کان میں پڑ کر ہر ایک چیز نمک ہی ہو جاتی ہے۔ ایسا ہی یہ تمام حالتیں اخلاقی ہی ہو جاتی ہیں اور روحانیت پر نہایت گہرا اثر کرتی ہیں۔ اسی واسطے قرآن شریف نے تمام عبادات اور اندرونی پاکیزگی کے اغراض اور خشوع اور خضوع کے مقاصد میں جسمانی طہارتوں اور جسمانی آداب اور جسمانی تعدیل کو بہت ملحوظ رکھا ہے اور غور کرنے کے وقت یہی فلاسفی نہایت صحیح معلوم ہوتی ہے کہ جسمانی اوضاع کا روح پر بہت قومی اثر ہے جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے طبعی افعال کو بظاہر جسمانی ہیں مگر ہماری روحانی حالتوں پر ضرور ان کا اثر ہے مثلاً جب ہماری آنکھیں رونا شروع کریں اور گو تکلف سے ہی روویں مگر فی الفوران آنسوؤں کا ایک شعلہ اٹھ کر دل پر جا پڑتا ہے۔ تب دل بھی آنکھوں کی پیروی کر کے غمگین : مین ہو جاتا ہے۔ ایسا ہی جب ہم تکلف سے ہنسنا شروع کریں تو دل میں بھی ایک انبساط پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ جسمانی سجدہ بھی روح میں خشوع اور عاجزی کی حالت پیدا کرتا ہے۔ اس کے مقابل پر ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ جب ہم گردن کو اونچی کھینچ کر اور چھاتی کو ابھار کر چلیں تو یہ وضع رفتار ہم میں ایک قسم کا تکبر اور خود بینی پیدا کرتی ہے۔ تو ان نمونوں سے پورے انکشاف کے ساتھ کھل جاتا ہے کہ بے شک جسمانی اوضاع کا روحانی حالتوں پر اثر ہے۔ ایسا ہی تجربہ ہم پر ظاہر کرتا ہے کہ طرح طرح کی غذاؤں کا بھی دماغی اور دلی قوتوں پر ضرور اثر ہے۔ مثلاً ذرا غور سے دیکھنا چاہئے کہ جو لوگ کبھی گوشت نہیں کھاتے رفتہ رفتہ ان کی شجاعت کی قوت کم ہوتی جاتی ہے یہاں تک کہ نہایت بز دل کے ہو جاتے ہیں اور ایک خداداد اور قابل تعریف قوت کو کھو بیٹھتے ہیں۔ اس کی شہادت خدا کے قانون قدرت سے اس طرح پر بھی ملتی ہے کہ چارپایوں میں سے جس قدر گھاس خور جانور ہیں کوئی بھی ان میں سے وہ شجاعت نہیں رکھتا جو ایک گوشت خور جانور رکھتا ہے۔ پرندوں میں بھی یہی بات مشاہدہ ہوتی ہے۔ پس اس میں کیا شک ہے کہ اخلاق پر غذاؤں کا اثر ہے۔ ہاں! جو لوگ دن رات گوشت خوری پر زور دیتے ہیں اور نباتی غذاؤں ۔ ہیں اور بالی غذاؤں سے بہت ہی کم حصہ ر ، کم ر حصہ رکھتے ہیں وہ بھی حلم اور انکسار کے خلق میں کم خدائے ہو جاتے ہیں اور میانہ روش کو اختیار کرنے والے دونوں خلق کے وارث ہوتے ہیں۔ اسی حکمت کے لحاظ سے تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے : كُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا یعنی گوشت بھی کھاؤ اور دوسری چیزیں بھی کھاؤ مگر کسی چیز کی حد سے زیادہ کثرت نہ کرو تا اس کا اخلاقی حالت پر بداثر نہ پڑے اور تا یہ کثرت مصر صحت بھی نہ ہو اور جیسا کہ جسمانی افعال اور اعمال کا روح پر اثر پڑتا ہے ایسا ہی کبھی روح کا اثر بھی جسم پر جا کے مطابق مسوده