تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 201
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام زندہ کرے۔ ۲۰۱ سورة الاعراف الحکم جلد ۸ نمبر ۸ مورخه ۱۰ مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۹) اب یہ زمانہ ہے کہ اس میں ریا کاری ، عجب ، خود بینی ، تکبر نخوت ، رعونت ، وغیرہ صفات رذیله تو ترقی کر گئے ہیں اور مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وغیرہ صفات حسنہ جو تھے وہ آسمان پر اٹھ گئے۔ توکل، تفویض وغیرہ سب باتیں کالعدم ہیں اب خدا کا ارادہ ہے کہ ان کی تخمریزی ہو۔ (البدر جلد ۳ نمبر ۱۰ مورخه ۸ مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۳) اعمال کے لیے اخلاص شرط ہے جیسا کہ فرمایا : مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّینَ یہ اخلاص ان لوگوں میں ہوتا ہے جو ابدال ہیں۔ یہ لوگ ابدال ہو جاتے ہیں اور وہ اس دنیا کے نہیں رہتے ان کے ہر کام میں ایک خلوص اور اہلیت ہوتی ہے ۔۔۔ یہ خوب یا د رکھو کہ جو شخص خدا تعالیٰ کے لیے ہو جاوے خدا تعالیٰ اس کا ہو جاتا ہے۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۷ ۱ مورخہ ۱۷ رمئی ۱۹۰۶ صفحہ ۵ و ۷ ارجون ۱۹۰۶ء صفحہ ۳) ایک شخص نے سوال کیا کہ نماز میں کھڑے ہو کر اللہ جل شانہ کا کس طرح کا نقشہ پیش نظر ہونا چاہیے؟ فرمایا: ) موٹی بات ہے قرآن شریف میں لکھا ہے : اُدْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّين، اخلاص سے خدا تعالیٰ کو یاد کرنا چاہیئے اور اس کے احسانوں کا بہت مطالعہ کرنا چاہیئے ۔ چاہیئے کہ اخلاص ہو، احسان ہو اور اس کی طرف ایسا رجوع ہو کہ بس وہی ایک رب اور حقیقی کارساز ہے۔ عبادت کے اصول کا خلاصہ اصل میں یہی ہے کہ اپنے آپ کو اس طرح سے کھڑا کرے کہ گویا خدا کو دیکھ رہا ہے اور یا یہ کہ خدا اسے دیکھ رہا ہے۔ ہر قسم کی ملونی اور ہر طرح کے شرک سے پاک ہو جاوے اور اسی کی عظمت اور اسی کی ربوبیت کا خیال رکھے، ادعیہ ماثورہ اور دوسری دعا ئیں خدا سے بہت مانگے اور بہت توبہ واستغفار کرے اور بار بار اپنی کمزوری کا اظہار کرے تا که تزکیہ نفس ہو جاوے اور خدا سے سچا تعلق ہو جاوے اور اس کی محبت میں محو ہو جاوے۔ الحکم جلد ۱۱ نمبر ۳۸ مورخه ۲۴ اکتوبر ۱۹۰۷ صفحه ۱۱) يبَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ واضح ہو کہ قرآن شریف کے رو سے انسان کی طبعی حالتوں کو اس کی اخلاقی اور روحانی حالتوں سے نہایت ہی شدید تعلقات واقع ہیں۔ یہاں تک کہ انسان کے کھانے پینے کے طریقے بھی انسان کی اخلاقی اور روحانی حالتوں پر اثر کرتے ہیں۔ اور اگر ان طبعی حالتوں سے شریعت کی ہدایت کے موافق کام لیا جائے تو جیسا کہ