تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 193 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 193

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام مَا لَكُمْ لَا تُفَكَّرُونَ؟ ( الهدى والتبصرة لمن يزی ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۳۶۵) ۱۹۳ سورة الاعراف سے کیسے زندہ ہیں تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم سوچتے نہیں؟ ( ترجمه از مرتب ) اگر وہ (حضرت عیسی علیہ السلام ۔ ناقل ) مع جسم عنصری آسمان پر ہیں اور بموجب تصریح اس آیت کے قیامت کے دن تک زمین پر نہیں اتریں گے تو کیا وہ آسمان پر ہی مریں گے اور آسمان میں ہی ان کی قبر ہو گی؟ لیکن آسمان پر مرنا پر مرنا آیت : فِيهَا تَمُوتُون کے برخلاف ہے۔ پس اس - اس سے تو یہی ثابت ہوا کہ وہ آسمان پر مع جسم عنصری نہیں گئے بلکہ مرکز گئے اور جس حالت میں کتاب اللہ نے کمال تصریح سے یہ فیصلہ کر دیا تو پھر کتاب اللہ کی مخالفت کرنا اگر معصیت نہیں تو اور کیا ہے۔ (الوصیت، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۱۳، ۳۱۴) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : فِيهَا تَحْيَوْنَ وَ فِيهَا تَمُوتُونَ وَ مِنْهَا تُخْرَجُون یعنی تم زمین پر ہی زندگی بسر کرو گے اور زمین پر ہی مرد گے اور زمین سے ہی نکالے جاؤ۔ انکالے جاؤ گے پھر یہ کیوں کر ممکن تھا کہ ایک شخص صد ہا برس تک آسمان پر زندگی بسر کرے۔ ( براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۳۰۰ حاشیه ) خدا تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ وعدہ کے برخلاف کسی بشر کو آسمان پر چڑھاوے حالانکہ وہ وعدہ کر چکا ہے کہ تمام بشر زمین پر ہی اپنی زندگی بسر کریں گے لیکن حضرت مسیح کو خدا نے آسمان پر مع جسم چڑھا دیا اور اس وعدہ کا کچھ پاس نہ کیا جیسا کہ فرمایا تھا: پاس نہ کیا جیسا کہ فرمایا تھا: فِيهَا تَحْيُونَ وَ فِيهَا تَمُوتُونَ وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ ۔ لیکچر سیالکوٹ ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۲۲۰) ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کافروں نے قسمیں کھا نے قسمیں کھا کر بار بار سوال کیا کہ آپ مع جسم عنصری آسمان پر چڑھ کر دکھلائیے ، ہم ابھی ایمان لائیں گے ۔ ان کو جواب دیا گیا : قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رسُولًا (بنی اسرائیل : ۹۴) یعنی ان کو کہہ دے کہ میرا خدا عہد شکنی سے پاک ہے اور بموجب اس قول کے مع جسم عنصری آسمان پر نہیں جا سکتا۔ کیونکہ یہ امر خدا کے وعدہ کے برخلاف ہے وجہ یہ کہ وہ فرماتا ہے کہ : فيها تَحْيُونَ وَ فِيهَا تَمُوتُونَ - چشمه سیحی ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۔ ۳۸۷ حاشیه ) ایک اور دلیل حضرت عیسیٰ کی وفات پر قرآن شریف کی یہ آیت ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فِيهَا تَحْيَوْنَ وَ فِيهَا تَمُوتُونَ وَ مِنْهَا تُخْرَجُونَ ( ترجمہ ) تم (اے بنی آدم ) زمین میں ہی زندگی بسر کرو گے اور زمین میں ہی مرو گے اور زمین میں سے ہی نکالے جاؤ گے۔ پس باوجود اس قدر نص صریح کے کیوں کر ممکن ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام بجائے زمین پر رہنے کے قریباً دو ہزار برس اس سے بھی زیادہ کسی نا معلوم مدت تک