تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 192
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام قَالَ فِيهَا تَحْيَونَ وَ ۱۹۲ ور وور سورة الاعراف حيونَ وَ فِيهَا تَمُوتُونَ وَ مِنْهَا تُخْرَج تخرجون ۔ قرآن شریف صاف اور صریح لفظوں میں فرماتا ہے کہ کوئی انسان بجز ز مین کے کسی اور جگہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ جیسا کہ وہ فرما تا۔ رماتا ہے : فِيهَا تَحْيَوْنَ وَ فِيهَا تَمُوتُونَ وَ مِنْهَا تُخْرَجُونَ یعنی تم زمین میں ہی زم ہی زندہ رہو گے اور زمین میں ہی مرو گے اور زمین سے ہی نکالے جاؤ گے۔ مگر یہ لوگ کہتے ہیں کہ نہیں اس زمین اور کرہ ہوا سے باہر بھی انسان زندہ رہ سکتا ہے۔ جیسا کہ اب تک جو قریباً انیسویں صدی گزرتی ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں ۔ حالانکہ زمین پر جو قرآن کے رو سے انسانوں کے زندہ رہنے کی جگہ ہے باوجود زندگی کے قائم رکھنے کے سامانوں کے کوئی شخص انیس سو برس تک ابتدا سے آج تک کبھی زندہ نہیں رہا تو پھر آسمان پر انیس سو برس تک زندگی بسر کرنا باوجود اس امر کے کہ قرآن کے رو سے ایک قدر قلیل بھی بغیر زمین کے انسان زندگی بسر نہیں کر سکتا۔ کس قدر خلاف نصوص صریح قرآن ہے جس پر ہمارے مخالف ناحق اصرار کر رہے ہیں ۔ ( کتاب البریه، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۲۲۳، ۲۲۴ حاشیه ) اگر حضرت اور لیس معہ جسم عنصری آسمان پر گئے ہوتے تو بموجب نص صریح آیت: فِيهَا تَحْيون جیسا کہ حضرت مسیح کا آسمانوں پر سکونت اختیار کر لینا ممتنع تھا ایسا ہی ان کا بھی آسمان پر ٹھہر ناممتنع ہے کیونکہ خدا تعالیٰ اس آیت میں قطعی فیصلہ دے چکا ہے کہ کوئی شخص آسمان پر زندگی بسر نہیں کر سکتا بلکہ تمام انسانوں کے لئے زندہ رہنے کی جگہ زمین ہے۔ علاوہ اس کے اس آیت کے دوسرے فقرہ میں جو فِيهَا تَحْيون ہے یعنی زمین پر ہی مرو گے صاف فرمایا گیا ہے کہ ہر ایک شخص کی موت زمین پر ہوگی ۔ پس اس سے ہمارے مخالفوں کو یہ عقیدہ رکھنا بھی لازم آیا کہ کسی وقت حضرت ادریس بھی آسمان پر سے نازل ہوں گے ۔ حالانکہ دنیا میں یہ کسی کا عقیدہ نہیں اور طرفہ یہ کہ زمین پر حضرت ادریس کی قبر بھی موجود ہے جیسا کہ حضرت عیسیٰ کی قبر موجود ہے۔ ( کتاب البریه، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۲۳۸ حاشیه ) أَ تَكْفُرُ بِالْقُرْآنِ أَوْ نَسِيتَ يَوْمَ کیا تم قرآن کریم کا انکار کرتے ہو یا جزا سزا کے دن کو بھول الْمَجَازَاتِ وَقَدْ قَالَ اللهُ: فِيهَا گئے ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا ہے فِيهَا تَحْيَوْنَ وَ فِيهَا تَحْيُونَ وَ فِيهَا تَمُوتُونَ فَكَيْفَ عَاشَ تَمُوتُونَ ( کہ تم زمین پر ہی زندگی ! زمین پر ہی زندگی بسر کرو گے اور زمین پر ہی عِيسَى إِلَى الْأَلْفَيْنِ فِي السَّمَاءِ مرو گے ۔ پھر حضرت عیسی علیہ السلام آسمان پر دو ہزار سال