تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 177 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 177

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷۷ سورة الانعام فَانْظُرْ كَيْفَ فَسَّرَ النُّسُكَ بِلَفْظِ پس دیکھ کہ کیوں کر نسٹ کے لفظ کی حیات اور ممات الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ وَأَشَارَ بِه إِلى حَقِيقَةِ کے لفظ سے تفسیر کی ہے اور اس تفسیر سے قربانی کی حقیقت الْأَضْحَاةِ فَفَكَّرُوا فِيهِ يَأْذَوِی الْحَصَاةِ - کی طرف اشارہ کیا ہے پس اے عقلمندو! اس میں غور کرو وَمَنْ ضَى مَعَ عِلْمٍ حَقِيقَةِ ضَحِيَّتِهِ - اور جس نے اپنی قربانی کی حقیقت کو معلوم کر کے قربانی ادا وَصِدْقٍ طَوِيَّتِهِ - وَخُلُوصِ نِيَّتِهِ فَقَدْ کی اور صدق دل اور خلوص نیت کے ساتھ ادا کی پس بہ تحقیق ضَى بِنَفْسِهِ وَمُهْجَتِهِ - وَأَبْنَاءِ وَحَفَدَتِهِ- اس نے اپنی جان اور اپنے بیٹوں اور اپنے پوتوں کی قربانی وَلَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ - كَأَجْرِ إِبْرَاهِيمَ عِنْدَ کر دی اور اس کے لئے اجر بزرگ ہے جیسا کہ ابراہیم رَبِّهِ الْكَرِيمِ - وَإِلَيْهِ أَشَارَ سَيِّدُنَا کے لئے اس کے رب کے نزدیک اجر تھا اور اسی کی طرف الْمُصْطَفَى وَ رَسُولُنَا الْمُجْتَبى وَ اِمَامُ ہمارے سید برگزیدہ اور رسول برگزیدہ نے جو پرہیز گاروں الْمُتَّقِينَ وَخَاتَمُ النَّبِيِّينَ وَقَالَ وَهُوَ كا امام اور انبیاء کا خاتم ہے اشارہ کیا اور فرمایا اور وہ خدا بَعْدَ اللَّهِ أَصْدَقُ الصَّادِقِينَ اِنَّ الضَّحَايَا کے بعد سب سچوں سے زیادہ تر سچا ہے یہ تحقیق قربانیاں وہی هِيَ الْمَطَايَا - تُوْصِلُ إِلى رَبِّ الْبَرَايَا - سواریاں ہیں کہ جو خدا تعالیٰ تک پہنچاتی ہیں اور خطاؤں کو محو وَتَمْحُو الْخَطَايَا - وَتَدْفَعُ الْبَلَايَا - کرتی ہیں اور بلاؤں کو دور کرتی ہیں۔ (خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحه ۴۳ تا ۴۵) - ( ترجمہ اصل کتاب سے ) ان کو جو تیری پیروی کرنا چاہتے ہیں یہ کہہ دے کہ ( میری نماز اور ) میری قربانی اور میرا مرنا اور میرا زندہ رہنا سب اللہ تعالیٰ کے لیے ہے یعنی جو میری پیروی کرنا چاہتا ہے وہ بھی اس قربانی کو ادا کرے۔ ( سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۳۶۸) اے نبی ! لوگوں کو کہہ دے کہ میں صرف خدا کا پرستار ہوں دوسری کسی چیز سے میرا تعلق نہیں اور میرا زندہ رہنا اور میرا مرنا صرف اس خدا کے لیے ہے جو تمام عالموں کا پروردگار ہے۔ دیکھو اس آیت میں کیسی ماسوا اللہ سے بے تعلقی ظاہر کی گئی ہے۔ چناں زندگی کن که با صد عیال نداری بدل غیر آن ذوالجلال چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۰۱) صحابہ کرام کے تعلقات بھی تو آخر دنیا سے تھے ہی، جائیدادیں تھیں ، مال تھا ، زر تھا مگر ان کی زندگی پر کس قدر