تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 176 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 176

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷۶ سورة الانعام يدلُّ قطعًا عَلَى أَنَّ الْعَابِدُ فِي اشتراک کہ جو نسٹ کے معنوں میں پایا جاتا ہے قطعی طور پر ہے قطعی طور پر اس بات الْحَقِيقَةِ هُوَ الَّذِی ذَبَحَ نَفْسَهُ پر دلالت کرتا ہے کہ حقیقی پرستار اور سچا عابد وہی شخص ہے جس نے اپنے وَقُوَاهُ وَكُلَّ مَنْ أَصْبَاءُ لِرِضى نفس کو مع اس کی تمام قوتوں اور مع اس کے اُن محبوبوں کے جن کی رَبِّ الْخَلِيقَةِ وَ ذَبَّ الْهَوَى طرف اُس کا دل کھینچا گیا ہے اپنے رب کی رضا جوئی کیلئے ذبح کر ڈالا حَتَّى تَهَافَتَ وَالْمَنی وَذَابَ ہے اور خواہش نفسانی کو دفع کیا یہاں تک کہ تمام خواہشیں پارہ پارہ ہو وَغَابَ وَاخْتَفَى وَهَبَّتْ عَلَيْهِ کر گر پڑیں اور نابود ہوئیں اور وہ خود؟ اور نابود ہو گئیں اور وہ خود بھی گداز ہو گیا اور اس کے وجہ وجود کا عَوَاصِفُ الفَنَاءِ وَسَفَتْ کچھ نمود نہ رہا اور چھپ گیا اور فنا کی تند ہوائیں اس پر چلیں اور اس کے ذَرَّاتِهِ شَدَائِدُ هَذِهِ الْهَوْجَاءِ - وجود کے ذرات کو اس ہوا کے سخت دھکے اُڑا کر لے گئے۔ اور جس وَمَنْ فَكَرَ في هذين شخص نے ان دونوں مفہوموں میں کہ جو باہم نسٹ کے لفظ میں الْمَفْهُو مَيْنِ الْمُشْتَرِكَيْنِ - مشارکت رکھتے ہیں غور کی ہوگی اور اس مقام کو تدبر کی نگاہ سے دیکھا وَتَدَبَّرَ الْمَقَامَ بِتَيَقْظِ الْقَلْبِ ہوگا اور اپنے دل کی بیداری اور دونوں آنکھوں کے کھولنے سے پیش و پس وَفَتْحِ الْعَيْنَيْنِ - فَلَا يَبْقَى له کو زیر نظر رکھا ہوگا پس اُس پر پوشیدہ نہیں رہے گا اور اس امر میں کسی خِفَاءٌ وَلَا مِرَاءُ - فِي أَن هذا قسم کی نزاع اس کے دامن کو نہیں پکڑے گی کہ یہ دو معنوں کا اشتراک کہ إِيْمَاءُ - إِلى أَنَّ الْعِبَادَة جو نُسُك كے لفظ میں پایا جاتا ہے اس بھید کی طرف اشارہ ہے کہ عبادت الْمُنْجِيَةَ مِنَ الْخَسَارَةِ- هي جو آخرت کے خسارہ سے نجات دیتی ہے وہ اس نفس امارہ کا ذبح کرنا ذَبْحُ النَّفْسِ الْأَمَارَةِ - وَنَحْرُهَا ہے کہ جو بُرے کاموں کیلئے زیادہ سے زیادہ جوش رکھتا ہے اور ایسا حاکم يمدَى الْإِنْقِطَاعِ إِلَى الله ذی ہے کہ ہر وقت بدی کا حکم دیتا رہتا ہے پس نجات اس میں ہے کہ اس بُرا حکم الا لَاءِ وَالْأَمْرِ وَالْإِمَارَةِ - مَعَ دینے والے کو انقطاع الی اللہ کے کاردوں سے ذبح کر دیا جائے اور تَحَملِ انْوَاعِ الْمَرَارَةِ - لِتَنْجُو خلقت سے قطع تعلق کر کے خدا تعالیٰ کو اپنا مونس اور آرام جاں قرار دیا النَّفْسُ مِنْ مَوْتِ الْغَرَارَةِ جائے اور اس کے ساتھ انواع اقسام کی تلخیوں کی برداشت بھی کی جائے وَهُذَا هُوَ مَعْنَى الإِسلام - تا نفس غفلت کی موت سے نجات پاوے اور یہی اسلام کے معنے ہیں وَحَقِيقَةُ الْإِنْقِيَادِ التَّامِ - اور یہی کامل اطاعت کی حقیقت ہے۔ (ترجمہ اصل کتاب سے ) ( خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحه ۳۳ تا ۳۵)