تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 174 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 174

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷۴ سورة الانعام اور ایسے لوگوں پر نہ کچھ ڈر ہے اور نہ وہ بھی مکین ہوں گے یعنی وہ پورے اور کامل طور پر نجات پا جائیں گے۔ اس مقام میں اللہ جل شانہ نے عیسائیوں اور یہودیوں کی نسبت فرما دیا کہ جو وہ اپنی اپنی نجات یابی کا دعوی کرتے ہیں وہ صرف ان کی آرزوئیں ہیں اور ان آرزوؤں کی حقیقت جو زندگی کی روح ہے ان میں ہرگز پائی نہیں جاتی بلکہ اصلی اور حقیقی نجات وہ ہے جو اسی دنیا میں اس کی حقیقت نجات یا بندہ کو محسوس ہو جائے اور وہ اس طرح پر ہے کہ نجات یا بندہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ توفیق عطا ہو جائے کہ وہ اپنا تمام وجود خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف کر دے۔ اس طرح پر کہ اس کا مرنا اور جینا اور اس کے تمام اعمال خدا تعالیٰ کے لئے ہو جائیں اور اپنے نفس سے وہ بالکل کھویا جائے اور اس کی مرضی خدا تعالیٰ کی مرضی ہو جائے اور پھر نہ صرف دل کے عزم تک یہ بات محدودر ہے بلکہ اس کی تمام جوارح اور اس کے تمام قومی اور اس کی عقل اور اس کا فکر اور اس کی تمام طاقتیں اسی راہ میں لگ جائیں تب اس کو کہا جائے گا کہ وہ حسن ہے یعنی خدمت گاری کا اور فرمانبرداری کا حق بجالا یا جہاں تک اس کی بشریت سے ہو سکتا تھا سو ایسا شخص نجات یاب ہے۔ جیسا کہ ایک دوسرے مقام میں فرماتا ہے : قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ ۚ وَ بِذلِكَ أُمِرْتُ وَ أَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ ( س ۸ سوره انعام رکوع ۷ ) کہہ نماز میری اور عبادتیں میری اور زندگی میری اور موت میری تمام اس اللہ واسطے ہیں جو رب ہے عالموں کا جس کا کوئی شریک نہیں اور اسی درجہ کے حاصل کرنے کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں اول مسلمانوں کا ہوں ۔ (جنگ مقدس، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۴۳، ۱۴۴) کہہ میری نماز اور میری قربانی اور میرا مرنا اور میرا جینا سب اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ ( سب بچن، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۲۹) میری نماز اور میری قربانی اور میرا زندہ رہنا اور میرا مرنا سب خدا کے لئے ہے اور جب انسان کی محبت خدا کے ساتھ اس درجہ تک پہنچ جائے کہ اس کا مرنا اور جینا اپنے لئے نہیں بلکہ خدا ہی کے لئے ہو جائے ۔ تب وہ خدا جو ہمیشہ سے پیار کرنے والوں کے ساتھ پیار کرتا آیا ہے اپنی محبت کو اس پر اتارتا ہے اور ان دونوں محبتوں کے ملنے سے انسان کے اندر ایک نور پیدا ہوتا ہے جس کو دنیا نہیں پہچانتی اور نہ سمجھ سکتی ہے اور ہزاروں صدیقوں اور برگزیدوں کا اسی لئے خون ہوا کہ دنیا نے ان کو نہیں پہچانا۔ وہ اسی لئے مکار اور خود غرض کہلائے اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۸۴) کہ دنیا ان کے نورانی چہرہ کو دیکھ نہ سکی۔