تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 173 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 173

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷۳ سورة الانعام م ہے وہی حقدار خدا جس نے ہر یک چیز کو پیدا کیا ہے۔ (شحنہ حق ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۳۳۱،۳۳۰ حاشیه ) ان کو کہہ دے کہ میری نماز اور میری پرستش میں جدو جہد اور میری قربانیاں اور میرا زندہ رہنا اور میرا مرنا سب خدا کے لئے اور اس کی راہ میں ہے۔ وہی خدا جو تمام عالموں کا رب ہے جس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے ، اور میں اول المسلمین ن ہو ہوں ہوں یعنی یعنی دنیا دنیا کی ابتداء سے اس کے اخیر تک میرے جیسا اور کوئی کامل انسان نہیں جو ایسا اعلیٰ درجہ کا فنا فی اللہ ہو جو خدا تعالیٰ کی ساری امانتیں اس کو واپس دینے والا ہو۔ اس آیت یت میں ان نادان موحدوں مدوں کا کا رڈ ہے جو یہ اعتقاد رکھتے ہیں جو ہمارے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسرے انبیاء پر فضیلت کلی ثابت نہیں اور ضعیف حدیثوں کو پیش کر کے کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ مجھ کو یونس بن متی سے بھی زیادہ فضیلت دی جائے ۔ یہ نادان نہیں سمجھتے کہ اگر وہ حدیث صحیح بھی ہو تب بھی وہ بطور انکسار اور تذلیل ہے جو ہمیشہ ہمارے سید صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی ہر ایک بات کا ایک موقع اور محل ہوتا ہے اگر کوئی صالح اپنے خط میں احقر عباد اللہ لکھے تو اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ یہ شخص در حقیقت تمام دنیا یہاں تک کہ بت پرستوں اور تمام فاسقوں سے بدتر ہے اور خود اقرار کرتا ہے کہ وہ احقر عباد الله ہے کس قدر نادانی اور شرارت نفس ہے۔ غور سے دیکھنا چاہیئے کہ جس حالت میں اللہ جل شانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اول المسلمین رکھتا ہے اور تمام مطیعوں اور فرمانبرداروں کا سردار ٹھہراتا ہے اور سب سے پہلے امانت کو واپس دینے والا آنحضرت صلعم کو قرار دیتا ہے تو پھر کیا بعد اس کے کسی قرآن کریم کے ماننے والے کو گنجائش ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اعلیٰ میں کسی طرح کا جرح کر سکے۔ خدا تعالیٰ نے آیت موصوفہ بالا میں اسلام کے لئے کئی مراتب رکھ کر سب مدارج سے اعلیٰ درجہ وہی ٹھہرایا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فطرت کو عنایت فرمایا ۔ سُبْحَانَ اللهِ مَا أَعْظَمَ شَأْنُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ موسیٰ و عیسی همه خیل تواند جمله درین راه طفیل تواند ( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۶۲ تا ۱۶۴) نجات اس کو ملتی ہے جس نے اپنا سارا وجود اللہ کی راہ میں سونپ دیا۔ یعنی اپنی زندگی کو خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف کر دیا اور اس کی راہ میں لگا دیا اور وہ بعد وقف کرنے اپنی زندگی کے نیک کاموں میں مشغول ہو گیا اور ہر ایک قسم کے اعمال حسنہ بجالانے لگا پس وہی شخص ہے جس کو اس کا اجر اس کے رب کے پاس سے ملے گا