تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 139
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۹ سورة الانعام الْمَجَازِي، وَإِشَارَةً إِلَى أَنَّ مَعْنَى لَفَظَ التَّوَفَّى کے حقیقی معنے موت ہیں نہ کچھ اور ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ حَقِيقَةً هُوَ الْمَوْتُ لَا غَيْرُهُ وَكَذَلِكَ أَقَامَ نے اس آیت میں ثُمَّ يَبْعَثُكُمُ اور الَّيْلِ کا قرینہ قَرِينَةً قَوْلِهِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ وَقَرِيْنَةَ اللَّيْلِ فِي بھی ساتھ لگایا ہے یعنی هُوَ الَّذِي يَتَوَفَّكُمْ بِالَّيْلِ آيَةٍ أُخْرَى أَعْنِي آيَةَ وَ هُوَ الَّذِي يَتَوَفَّكُمُ الح کی آیت میں اور یہ قرائن اس لیے قائم کیے تا یہ بِأَلَّيْلِ ۔۔ الخ، تَنْبِيهَا عَلَى أَنَّ لَفَظَ التَّوَفَّى هُهُنا بتایا جائے کہ اس جگہ توفی کے لفظ کے معنے سلانے لَيْسَ يَمْعَنَى الْإِنَامَةِ بَلِ الْمَقْصُودُ الْإِمَاتَةُ کے نہیں ۔ بلکہ اس سے مراد امانت اور امانت کے وَالْبَعْثُ بَعْدَ الْإِمَاتَةِ لِيَكُونَ دَلِيْلًا عَلَى بَعْثِ بعد بعث ہے تا کہ یہ بات بعث یوم الدین کے لیے يَوْمِ الدِّينِ دلیل ہو۔ فَلِأَجْلِ ذَلِكَ ذَكَرَ بَعْثَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ بَعْدَ اسی لیے اس آیت کے بعد بعث یوم القیامہ کا هَذِهِ الْآيَةِ وَقَالَ ثُمَّ إِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ ، لِيَجْعَلَ خدا تعالیٰ نے ذکر کیا ہے اور فرمایا ثُمَّ إِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ هُذَا الْمَوْتَ الْمَجَازِي وَالْبَعْثَ الْمَجَازِ (پھر تم اس کی طرف لوٹ کر آؤ گے ) تا یہ مجازی دَلِيْلًا عَلَى الْمَوْتِ الْحَقِيقِي وَالْبَعْثِ الْحَقِيقِي موت اور مجازی بعث حقیقی موت اور حقیقی بعث (حمامة البشرى ، روحانی خزائن جلدے صفحہ ۳۶۱، ۳۶۲) پر دلیل ہو۔ ( ترجمہ از مرتب ) وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ ) تم پر حفاظت کرنے والے مقرر ہیں خدا تعالیٰ ان کو بھیجتا ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے چوکیدار مقرر ہیں جو اس کے بندوں کی ہر طرف سے یعنی کیا ظاہری طور پر اور کیا باطنی طور پر حفاظت کرتے ہیں۔ اس مقام میں صاحب معالم نے یہ حدیث لکھی ہے کہ ہر یک بندہ کیلئے ایک فرشتہ موکل ہے جو اس کے ساتھ ہی رہتا ہے۔ اور اس کی نیند اور بیداری میں شیاطین اور دوسری بلاؤں سے اس کی حفاظت کرتا رہتا ہے اور اسی مضمون کی ایک اور حدیث کعب الاحبار سے بیان کی ہے اور ابن جریر اس آیت کی تائید میں یہ حدیث لکھتا ہے : ان مَعَكُمْ مِّنْ لَّا يُفَارِقُكُمْ إِلَّا عِنْدَ الْخَلَاءِ وَعِنْدَ الْجِمَاعِ فَاسْتَحْيُوهُمْ وَ أَكْرِمُوْهُمْ - یعنی تمہارے ساتھ وہ فرشتے ہیں کہ بجز جماع اور پاخانہ کی حاجت کے تم سے جدا نہیں ہوتے ۔ سو تم ان سے شرم