تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 135
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام الله سورة الانعام فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى إِذَا فَرِحُوا بِمَا أُوتُوا أَخَذْ لَهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُّبْلِسُونَ ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ زلزلہ ایسے وقت آئے گا کہ کسی کو خبر بھی نہ ہوگی بلکہ لوگ ہماری تکذیب کر چکے ہوں گے کہ وہ پیشگوئی جھوٹی نکلی ۔ قرآن شریف سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے : فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا ہے ۔ یہ عادت اللہ ہے کہ ایسے وقت عذاب آتا ہے جب لوگ اسے بالکل بھول جاتے ہیں ۔ ایسا ہی ان الہامات سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا چھپ کر آؤں گا گویا ہر شخص کا دل یقین کرلے گا کہ ہم نے جھوٹ بولا ہے۔ بَغْتَةً کا یہی منشاء ہے۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۱۶ مورخه ۱۰ رمئی ۱۹۰۵ صفحه ۸) فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ مولوی غلام دستگیر نے میرے صدق یا کذب کا فیصلہ آیت : فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا پر چھوڑا تھا جس کے اس محل پر یہ معنی ہیں کہ جو ظالم ہوگا اس کی جڑھ کاٹ دی جائے گی اور یہ امر کسی اہل علم پر مخفی نہیں کہ آیت ممدوحہ بالا کا مفہوم عام ہے جس کا اس شخص پر اثر ہوتا ہے جو ظالم ہے پس ضرور تھا کہ ظالم اس کے اثر سے ہلاک کیا جاتا لہذا چونکہ غلام دستگیر خدا تعالیٰ کی نظر میں ظالم تھا اس لیے اس قدر بھی اس کو مہلت نہ ملی جو اپنی اس کتاب کی اشاعت کو دیکھ لیتا اس سے پہلے ہی مر گیا اور سب کو معلوم ہے کہ وہ اس دعا سے چند روز بعد ( حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۴۴) ہی فوت ہو گیا۔ قُلْ لا أَقُولُ لَكُمْ عِنْدِي خَزَائِنُ اللهِ وَ لَا اَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَا أَقُولُ لَكُمْ إِنِّي مَلَكُ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَى قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْأَعْمَى وَالْبَصِيرُ أَفَلَا تَتَفَكَّرُونَ ۔ هَلْ يَسْتَوِي الْأَعْلَى وَالْبَصِيرُ کیا اندھا اور بینا مساوی ہو سکتے ہیں؟ ہر گز نہیں! پس جب ہم اس بات کو دیکھتے ہیں تو پھر کس قدر غلطی ہے کہ ہم اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ غرض یہ ہے کہ مومن کی فراست سے ڈرنا چاہیے اور مقابلہ مومن کے لیے تیار ہو جانا دانشمند انسان کا کام نہیں ہے اور مومن کی شناخت انہیں آثار