تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 134
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۴ سورة الانعام يُدْعَى خُمَّا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، فَحَمدَ درمیان خطبہ کے لئے کھڑے ہوئے۔ آپ نے اللہ کی اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَوَعَظَ وَذَكَرَ، ثُمَّ حمد و ثنا بیان کی اور وعظ و نصیحت کی اور پھر فرمایا: اما بعد، اے قَالَ: أَمَّا بَعْدُ أَ لَا يَا أَيُّهَا النَّاسُ! لوگو ! غور سے سنو، میں ایک بشر ہوں قریب ہے کہ میرے إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَنِي رَسُولُ رب کا پیامبر ) ملک الموت ) میرے پاس آئے اور میں اُسے رَبِّي فَأُجِيبَ، وَأَنَا تَارِكٌ فِيكُمُ لبيك کہوں اور میں تم میں دو نہایت گراں قدر چیزیں چھوڑ الثَّقَلَيْنِ أَوَّلُهَا كِتَابُ اللهِ فِيهِ رہا ہوں ۔ ان میں سے پہلی کتاب اللہ ( قرآن ) ہے جس میں الْهُدى وَالنُّورُ، فَخُذُوا بِكِتَابِ الله ہدایت اور نور ہے ۔ پس تم اللہ کی کتاب کو مضبوطی سے تھام لو اور وَاسْتَمْسِكُوا بِهِ فَحَثَّ عَلى كِتَابِ اس کی تعلیمات پر عمل کرو۔ چنانچہ آپ نے کتاب اللہ کے لئے اللهِ وَرَغَبَ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ: وَأَهْل تحریص و ترغیب دلائی پھر فرمایا: اور (دوسرے ) میرے اہل بَيْتِي، أُذَكِّرُكُمُ اللهَ فِي أَهْلِ بَيْتِی بیت ہیں ۔ میں تمہیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ یاد وَكِتَابُ اللهِ هُوَ حَبْلُ اللهِ مَنِ اتَّبَعَةَ دلاتا ہوں اور (یاد رکھو) کہ اللہ کی کتاب ہی حبل اللہ ہے۔ كَانَ عَلَى الْهُدَى، وَمَنْ تَرَكَهُ كَانَ علی جس نے اس کی پیروی کی تو وہ ہدایت پر ہے اور جس نے اُسے الضَّلَالَةِ فَانْظُرْ كَيْفَ رَغَبَ فِيهِ چھوڑا تو وہ گمراہی پر ہے۔ پس غور کر کہ کس طرح آنحضور نے وَخَوَّفَ مَنْ تَرَكَهُ مُعْرِضًا عَنْهُ اس (قرآن) کی ترغیب دلائی ہے اور اُس نے اُسے ڈرایا ہے بِحَيْثُ أَخَذَ غَيْرَهُ الَّذِي يُعَارِضُه جس نے قرآن کو اس طور پر اعراض کرتے ہوئے چھوڑا کہ اُس فَاعْلَمْ أَنَّ الْقُرْآنَ إِمَامُ وَنُورُ نے وہ لیا جو اس کے معارض ہے۔ پس تو جان لے کہ قرآن وَيَهْدِي إِلَى الْحَقِّ وَأَنَّهُ تَنْزِيلُ رَبِّ امام اور نور ہے اور وہ حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور یقینا وہ رب العالمین کی طرف سے اُتارا گیا ہے۔ ( ترجمہ از مرتب ) الْعَالَمِينَ (حمامة البشرى ، روحانی خزائن جلدے صفحہ ۲۵۱، ۲۵۲) بَلْ إِيَّاهُ تَدْعُونَ فَيَكْشِفُ مَا تَدْعُونَ إِلَيْهِ إِنْ شَاءَ وَ تَنْسَوْنَ مَا تُشْرِكُونَ ) اللہ تعالیٰ نے دوسری دعاؤں میں قبول کرنے کا وعدہ نہیں کیا بلکہ فرمادیا ہے کہ چاہوں تو قبول کروں اور چاہوں تو رد کروں جیسا کہ یہ آیت قرآن کی صاف بتلا رہی ہے ۔ ( برکات الدعاء، روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۱۳)