تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 445 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 445

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام لد لد سورة النساء مولوی صاحب ( مولوی محمد بشیر صاحب ) اس آیت کو حضرت عیسیٰ کی جسمانی زندگی پر قطعیۃ الدلالت قرار دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اس آیت کے قطعی طور پر یہی معنے ہیں کہ کوئی اہل کتاب میں سے ایسا نہیں کہ جو عیسی پر اس کی ماموت سے پہلے ایمان نہیں لائے گا۔ اور چونکہ اب تک تمام اہل کتاب کیا عیسائی اور کیا نبوت کا منکر یہودی حضرت عیسیٰ پر سچا اور حقیقی ایمان نہیں لائے بلکہ کوئی ان کو خدا قرار دیتا ہے اور کوئی ان کی نبوت کا ہے اس لئے ضروری ہے کہ حسب منشاء اس آیت کے حضرت عیسیٰ کو اس زمانہ تک زندہ تسلیم کر لیا جائے جب تک کہ سب اہل کتاب اس پر ایمان لے آئیں۔ مولوی صاحب اس بات پر حد سے زیادہ ضد کر رہے ہیں که ضرور یہ آیت موصوفہ بالا حضرت مسیح کی جسمانی زندگی پر قطعی طور پر دلالت کرتی ہے اور یہی صحیح معنے اس کے ہیں کسی دوسرے معنے کا احتمال اس میں ہر گز نہیں اور اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ گو بعض صحابہ اور تابعین اور مفسرین نے اور بھی کتنے معنے اس آیت کے کئے ہیں مگر وہ معنے صحیح نہیں ہیں۔ کیوں صحیح نہیں ہیں؟ اس کا سبب یہ بتلاتے ہیں کہ اس جگہ لیؤمنن کا صیغہ نون ثقیلہ کے لگنے کی وجہ سے خالص استقبال کے معنوں میں ہو گیا ہے اور خالص استقبال کے معنے صرف اسی طریق بیان سے محفوظ رہ سکتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ کا کسی آئندہ زمانہ میں نازل ہونا قبول کر کے پھر اس زمانہ کے اہل کتاب کی نسبت یہ اعتقاد رکھا جائے کہ وہ سب کے سب حضرت عیسیٰ پر ایمان لے آئیں گے اور فرماتے ہیں کہ جو حضرت ابن عباس وغیرہ صحابہ نے اس کے مخالف معنے کئے ہیں اور قبل موتہ کی ضمیر کتابی کی طرف پھیر دی ہے یہ معنے ان کی نحو کے اجماعی قاعدہ کے مخالف ہیں ۔ کیوں مخالف ہیں؟ اس وجہ سے کہ ایسے معنوں کے کرنے سے لفظ لَيُؤْمِنَنَّ کا خالص استقبال کے لئے مخصوص نہیں رہتا۔ سو مولوی صاحب کی اس تقریر کا حاصل کلام یہ معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ ابن عباس اور عکرمہ اور ابی ابن کعب وغیرہ صحابہ خو نہیں پڑھے ہوئے تھے اور نحو کے وہ اجماعی قواعد جو مولوی صاحب کو معلوم ہیں انہیں معلوم نہیں تھے اس لئے وہ ایسی صریح غلطی میں ڈوب گئے جو انہیں وہ قاعدہ یاد نہ رہا جس پر تمام منحویوں کا اجماع اور اتفاق ہو چکا تھا بلکہ انہوں نے اپنی زبان کا قدیمی محاورہ بھی چھوڑ دیا جس کی پابندی طبعاً ان کی فطرت کے لئے لازم تھی۔ ناظرین برائے خدا غور فرماویں کہ کیا مولوی صاحب اس بات کے مجاز ٹھہر سکتے ہیں کہ ابن عباس جیسے جلیل الشان صحابی کو نحوی غلطی کا الزام دیویں۔ اور اگر مولوی صاحب نحوی غلطی کا ابن عباس پر الزام قائم نہیں کرتے تو پھر کیا کوئی اور بھی وجہ ہے جس کے رو سے مولوی صاحب کے خیال میں ابن عباس کے وہ معنے اس آیت متنازع فیہ میں رد کے لائق ہیں جن کی تائید میں ایک قراءت شادہ بھی