تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 444 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 444

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام マママ سورة النساء اور قراءت قبل موتہم کس قدر وثوق سے ثابت ہوتی ہے پھر باوجود یکہ یہ تاویل صحابہ کرام کی طرف سے ہے اور بلاشبہ قراءت شاذه حدیث صحیح کا حکم رکھتی ہے مگر آپ اس کو نظر انداز کر کے اور نحوی قواعد کو اپنے زعم میں اس کے مخالف سمجھ کر تمام بزرگ اور اکا بر قوم اور صحابہ کرام کی صریح ہجو اور توہین کر رہے ہیں گویا آپ کے نحوی قواعد کی صحابہ کو لی صحابہ کو بھی خبر نہیں خبر نہیں تھی اور ابن عباس جیسا صحابی جس کیلئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے فہم قرآن کی دعا بھی ہے وہ بھی آپ کے ان عجیب معنوں سے بے خبر رہا۔ آپ پر قراءت قبل موتہم کا بھی وثوق کھل گیا ہے اب فرض کے طور پر اگر قبول کر لیں کہ ابن عباس اور علی بن طلحہ اور عکرمہ وغیرہ صحابہ ان معنوں کے سمجھنے میں خطا پر تھے اور قراءت اُبی بن کعب بھی یعنی قبل موتهم کامل درجہ پر ثابت نہیں تو کیا آپ کے دعوی قطعی الدلالت ہونے آیت لیؤمنن به پر اس کا کچھ بھی اثر نہ پڑا۔ کیا وہ دعویٰ جس کے مخالف صحابہ کرام بلند آواز سے شہادت دے رہے ہیں اور دنیا کی تمام مبسوط تفسیریں باتفاق اس پر شہادت دے رہی ہیں اب تک قطعیۃ الدلالت ہے ۔ يَا أَخِي اتَّقِ اللهَ وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا (بنی اسرائیل : ۳۷) ۔ اور جب ان روایتوں کے ساتھ وہ روایتیں بھی ملا دیں جن میں اِنِّي مُتَوَفِّيكَ کے معنے مُميتك لکھے ہیں جیسے ابن عباس کی روایت اور وہب اور محمد بن اسحاق کی روایت کے کوئی ان میں سے عام طور پر حضرت مسیح کی موت کا قائل ہے اور کوئی کہتا ہے کہ تین گھنٹہ تک مر گئے تھے اور کوئی سات گھنٹہ تک ان کی موت کا قائل ہے اور کوئی تین دن تک جیسا کہ فتح البیان اور معالم التنزیل اور تفسیر کبیر وغیرہ تفاسیر سے ظاہر ہے تو پھر اس صورت میں اس وہم کی اور بھی پیچ کنی ہوتی ہے کہ مسیح کی موت سے پہلے سب اہل کتاب ایمان لے آویں گے۔ غرض آپ کا نور قلب شہادت دے سکتا ہے کہ جس قدر میں نے لکھا ہے آپ کے دعوے قطعیۃ الدلالت کے توڑنے کیلئے کافی ہے قطعیۃ الدلالت اس کو کہتے ہیں جس میں کوئی دوسرا احتمال پیدا نہ ہو سکے مگر آپ جانتے ہیں کہ اکابر صحابہ اور تابعین کے گروہ نے آپ کے معنے قبول نہیں کئے اور مفسرین نے جا بجا اس آپ کی تاویل کو قیل کے لفظ سے بیان کیا ہے جو ضعف روایت پر دلالت کرتا ہے۔ عام رائے تفسیروں کی یہی پائی جاتی ہے کہ قراءت قبل موتہم کے موافق معنے کرنے چاہئیں اور ضمیر بہ کا نہ صرف حضرت عیسیٰ کی طرف بلکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ جل شانہ کی طرف پھیرتے ہیں ۔ اب آپ کی رائے کی قطعیت کیونکر باقی رہ سکتی ہے۔ الحق مباحثہ دہلی ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۱۸۴ تا ۱۹۰)