تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 441
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۴۱ سورة النساء نے اس کو کہا کہ اگر ناگاہ کسی شخص کی گردن کاٹ دی جائے تو کس وقت اور کیونکر وہ عیسیٰ کی نبوت کا اقرار کرے گا۔ تب ابن عباس نے کہا کہ اس کی اس وقت تک جان نہیں نکلے گی جب تک اس کے لبوں پر کلمہ اقرار نبوت مسیح کا جاری نہ ہوئے پھر عکرمہ نے کہا کہ اگر وہ گھر کی چھت پر سے گرے یا جل جائے یا کوئی درندہ اس کو کھا لیوے تو کیا پھر بھی اقرار نبوت عیسیٰ کا اس کو موقعہ ملے گا تب ابن عباس نے جواب دیا کہ وہ گرتے گرتے ہوا میں یہ اقرار کر دے گا۔ اور جب تک یہ اقرار نہ کر لے تب تک اس کی جان نہیں نکلے گی اور اسی پر دلالت کرتی ہے قراءت اُبی بن کعب کی۔ الا لَيُؤْمِنُنَّ بِهِ قبل موتهم بِضَمِّ النُّون یعنی دوسری قراءت میں بجائے قبل موتہ کے قبل موتہم لکھا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ در حقیقت موتہ کی ضمیر اہل کتاب کی طرف پھرتی ہے نہ حضرت عیسیٰ کی طرف۔ اور ایک قول ضعیف یہ بھی ہے کہ دونوں ضمیریں بہ اور موتہ کی حضرت عیسی کی طرف پھرتی ہیں جس کا مطلب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ عیسیٰ کے نزول کے بعد تمام اہل کتاب ان کی نبوت پر ایمان لے آویں گے اور ایک قول یہ بھی ہے کہ ضمیر بہ کی اللہ تعالیٰ کی طرف پھرتی ہے اور ایک قول یہ بھی ہے کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ضمیر بہ کی پھرتی ہے۔ پھر نو وی میں یہ عبارت لکھی ہے ذَهَبَ كَثِيرُونَ بَلْ أَكْثَرُونَ إِلَى أَنَّ الظَّمِيرَ فِي آيَةٍ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ يَعُودُ إِلَى أَهْلِ الْكِتَبِ وَيُؤَيِّدُ هَذَا أَيْضًا قِرَاءَةُ مَن قَرَأَ قَبْلَ مَوْتِهِمْ ۔ یعنی بہت سے لوگ بلکہ نہایت کثرت سے لوگ اسی طرف گئے ہیں کہ آیت إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِہ میں موتہ کی ضمیر اہل کتاب کی طرف پھرتی ہے اور اسی کی مؤید قراءت قبل موتهم ہے۔ پھر تفسیر مدارک میں اسی آیت کی تفسیر میں لکھا ہے وَالْمَعْلٰی مَا مِنَ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى أَحَدٌ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ قَبْلَ مَوْتِهِ بِعِيسَى وَبِأَنَّهُ عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ وَرُوِيَ أَنَّ الضَّمِيرَ فِي بِهِ يَرْجِعُ إِلَى اللَّهِ أَوْ إِلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالضَّمِيرَ الثَّانِي إِلَى الْكِتَابِي یعنی اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ یہود اور نصاری میں سے ایسا کوئی نہیں کہ جو اپنی موت سے پہلے عیسیٰ پر ایمان نہ لاوے اور اس کی رسالت اور عبدیت کو قبول نہ کرے اور یہ بھی روایت ہے کہ ضمیر بہ کی اللہ کی طرف پھرتی ہے اور یہ بھی روایت ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پھرتی ہے۔ ایسا ہی بیضاوی میں زیر آیت لَيُؤْمِنَنَّ بِہ یہ تفسیر کی ہے۔ وَالْمَعْنَى مَا مِنَ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى اَحَدٌ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِأَنَّ عِيسَى عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ وَيُؤَيِّدُ ذَالِكَ إِنْ قُرِءَ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِمْ وَقِيلَ الضَّمِيرَانُ لِعِيسَی ۔ یعنی اس