تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 440
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام لد لد ۔ سورة النساء الْأَسِيرِ مِنَ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى فَلَا اَسْمَعُ مِنْهُ ذَالِكَ فَقُلْتُ إِنَّ الْيَهُودِي إِذَا حَضَرَهُ الْمَوْتُ ضَرَبَتِ الْمَلَائِكَةُ دُبُرَةً وَوَجْهَهُ وَقَالُوا يَا عَدُ اللهِ أَتَاكَ عِيسَى نَبِيًّا فَكَذَّبْتَ بِهِ فَيَقُولُ امَنْتُ أَنَّهُ عَبْدٌ نَّبِيُّ وَ تَقُولُ لِلنَّصْرَانِي أَتَاكَ عِيسَى نَبِيًّا فَزَعَمْتَ أَنَّهُ اللَّهُ أَوِ ابْنُ اللَّهِ فَيُؤْمِنُ أَنَّهُ عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ وَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ فَشَرَهُ كَذَلِكَ فَقَالَ لَهُ عِكْرَمَةٌ فَإِنْ آتَاهُ رَجُلٌ فَضُرِبَ عُنْقُهُ قَالَ لَا تَخْرُجُ نَفْسُهُ حَتَّى يَتَحَرَّكَ بِهَا شَفَتَيْهِ قَالَ عِكْرَمَةُ وَإِنْ خَرَّ مِنْ فَوْقِ بَيْتٍ أَوِ احْتَرَقَ أَوْ أَكَلَهُ سَبْعٌ قَالَ يَتَكَلَّمُ بِهَا فِي الْهَوَاء وَلَا تَخْرُجُ رُوحُهُ حَتَّى يُؤْمِنَ بِهِ وَ تَدُلُّ عَلَيْهِ قِرَاءَةُ أَبَيَّ إِلَّا لَيُؤْمِنُنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِمْ بِضَمِّ النُّونِ عَلَى مَعْنَى وَإِنْ مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا لَيُؤْمِنُونَ قَبْلَ مَوْتِهِمْ وَقِيلَ الضَّمِيرُ إِنْ لِعِيسَى يَعْنِي وَإِنْ مِنْهُمْ أَحَدً الَّا لَيُؤْمِنَنَّ يَعْنِي قَبْلَ مَوْتِ عِيسَى أَهُمْ أَهْلُ الْكِتَبِ الَّذِينَ يَكُونُونَ فِي زَمَانِ نُزُولِهِ رُوِيَ أَنَّهُ يَنْزِلُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ فَلَا يَبْقَى أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ إِلَّا يُؤْمِنُ بِهِ حَتَّى تَكُونَ الْمِلَّةُ وَاحِدَةً وَهِيَ مِلَّهُ الْإِسْلَامِ وَقِيلَ الضَّمِيرُ فِي بِهِ يَرْجِعُ إِلَى اللهِ تَعَالَى وَقِيلَ إِلى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ترجمہ یعنی لَيُؤْمِنَنَّ بِه جملہ قسمیہ ہے اور آیت موصوف محذوف کے لئے صفت ہے اور محذوف کو ملانے کے ساتھ اصل عبارت یوں ہے کہ کوئی اہل کتاب میں سے ایسا نہیں جو اپنی موت سے پہلے عیسیٰ پر ایمان نہ لاوے اور نیز اس بات پر ایمان لاوے کہ وہ اللہ کا رسول اور اس کا بندہ ہے یعنی جس وقت جان کندن کا وقت ہو جب کہ ایمان بوجہ انقطاع وقت تکلیف کے کچھ نفع نہیں دیتا۔ اور شہر بن حوشب سے روایت ہے کہ مجھے حجاج نے کہا کہ ایک آیت ہے کہ جب کبھی میں نے اس کو پڑھا تو اس کی نسبت میرے دل میں ایک خلجان گز را یعنی یہی آیت اور خلجان یہ ہے کہ مجھے کتابی اسیر قتل کرنے کیلئے دیا جاتا ہے اور میں یہود یا نصاری کی گردن مارتا ہوں اور میں اس کے مرنے کے وقت یہ نہیں سنتا کہ میں عیسی پر ایمان لایا۔ ابن حوشب کہتا ہے کہ میں نے اس کو کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ جب یہودیوں پر جان کندن کا وقت آتا ہے تو فرشتے اس کے منہ پر اور پیچھے مارتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے دشمن خدا تیرے پاس عیسی نبی آیا اور تو نے اس کی تکذیب کی پس وہ کہتا ہے کہ اب میں عیسیٰ پر ایمان لایا کہ وہ بندہ اور پیغمبر ہے اور نصرانی کو فرشتے کہتے ہیں کہ تیرے پاس عیسیٰ نبی آیا اور تو نے اس کو خدا اور خدا کا بیٹا کہا تب وہ کہتا ہے کہ اب میں نے قبول کیا کہ وہ خدا کا بندہ اور رسول ہے۔ اور ابن عباس سے روایت ہے کہ اس نے ایک موقعہ پر یہی تفسیر کی تب عکرمہ