تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 361
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۱ سورة البقرة حفاظت کر کہ گناہ ہم سے سرزد ہی نہ ہوں ۔ صرف زبانی تکرار سے مطلب حاصل نہیں ہوتا ۔۔۔ پس چاہیئے کہ تو بہ استغفار منتر جنتر کی طرح نہ پڑھو بلکہ ان کے مفہوم اور معانی کو مد نظر رکھ کر تڑپ اور سچی پیاس سے خدا الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۴ مورخه ۱۸ رمئی ۱۹۰۸ صفحه (۳) کے حضور دعائیں کرو۔ خدا نے اپنی آسمانی بادشاہت میں فرشتوں کو کوئی اختیار نہیں دیا ۔۔۔۔ لیکن انسانی فطرت کو قبول عدم قبول کا اختیار دیا گیا ہے اور چونکہ یہ اختیار اوپر سے دیا گیا ہے اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ فاسق انسان کے وجود سے خدا کی بادشاہت زمین سے جاتی رہی بلکہ ہر رنگ میں خدا کی ہی بادشاہت ہے ہاں صرف قانون دو ہیں۔ ایک آسمانی فرشتوں کے لئے قضا و قدر کا قانون ہے کہ وہ بدی کر ہی نہیں سکتے اور ایک زمین پر انسانوں کے لئے ، خدا کے قضاء وقدر کے متعلق ہے اور وہ یہ کہ آسمان سے اُن کو بدی کرنے کا اختیار دیا گیا ہے مگر جب خدا سے طاقت طلب کریں یعنی استغفار کریں تو روح القدس کی تائید سے ان کی کمزوری دور ہو سکتی ہے اور وہ گناہ کے ارتکاب سے بچ سکتے ہیں جیسا کہ خدا کے نبی اور رسول بچتے ہیں۔ اور اگر ایسے لوگ ہیں کہ گنہگار ہو چکے ہیں تو استغفار ان کو یہ فائدہ پہنچاتا ہے کہ گناہ کے نتائج سے یعنی عذاب سے بچائے جاتے ہیں کیونکہ نور کے آنے سے ظلمت باقی نہیں رہ سکتی۔ اور جرائم پیشہ جو استغفار نہیں کرتے یعنی خدا سے طاقت نہیں مانگتے وہ کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۳۴) اپنے جرائم کی سزا پاتے رہتے ہیں ۔ آدمی کو لازم ہے کہ توبہ و استغفار میں لگا رہے اور دیکھتا رہے کہ ایسا نہ ہو بد اعمالیاں حد سے گذر جاویں اور خدا تعالیٰ کے غضب کو کھینچ لاویں جب خدا تعالیٰ کسی پر فضل کے ساتھ نگاہ کرتا ہے تو عام طور پر دلوں میں اُس کی محبت کا القا کر دیتا ہے لیکن جس وقت انسان کا شتر حد سے گذر جاتا ہے اُس وقت آسمان پر اُس کی مخالفت کا ارادہ ہوتے ہی اللہ تعالیٰ کے منشاء کے موافق لوگوں کے دل سخت ہو جاتے ہیں مگر جو نہی وہ تو بہ واستغفار کے ساتھ خدا کے آستانہ پر گر کر پناہ لیتا ہے تو اندر ہی اندر ایک رحم پیدا ہو جاتا ہے اور کسی کو پتہ بھی نہیں لگتا کہ اُس کی محبت کا بیج لوگوں کے دلوں میں بود یا جاتا ہے۔ غرض تو بہ واستغفار کا ایسا مجرب نسخہ ہے کہ خطا نہیں جاتا۔ الحکم جلد ۳ نمبر ۱۷ مورخه ۱۲ رمئی ۱۸۹۹ صفحه ۵) میرے نزدیک تو استغفار سے بڑھ کر کوئی تعویذ و حرز اور کوئی احتیاط و دوا نہیں۔ میں تو اپنے دوستوں کو کہتا ہوں کہ خدا سے صلح و موافقت پیدا کرو اور دُعاؤں میں مصروف رہو۔ الحکم جلد ۳ نمبر ۲۳ مورخه ۳۰ رجون ۱۸۹۹ صفحه ۵)