تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 360
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام دے اور معصیت سے بچائے رکھے۔ ۳۶۰ سورة البقرة خوب یا درکھو کہ لفظوں سے کچھ کام نہیں بنے گا اپنی زبان میں بھی استغفار ہو سکتا ہے کہ خدا پچھلے گنا ہوں کو معاف کرے اور آئندہ گناہوں سے محفوظ رکھے اور نیکی کی توفیق دے اور یہی حقیقی استغفار ہے کچھ ضرورت نہیں کہ یونہی استغفر الله استغفر الله ! کہتا پھرے اور دل کو خبر تک نہ ہو۔ یا د رکھو کہ خدا تک وہی بات پہنچتی ہے جو دل سے نکلتی ہے۔ اپنی زبان میں ہی خدا سے بہت دُعائیں مانگنی چاہئیں ۔ اس سے دل پر بھی اثر ہوتا ہے۔ زبان تو صرف دل کی شہادت دیتی ہے اگر دل میں جوش پیدا ہو اور زبان بھی ساتھ مل جائے تو اچھی بات ہے بغیر دل کے صرف زبانی دُعا ئیں عبث ہیں ، ہاں ! دل کی دُعا ئیں اصلی دعائیں ہوتی ہیں ۔ جب قبل از وقت بلا انسان اپنے دل ہی دل میں خدا سے دُعائیں مانگتا رہتا ہے اور استغفار کرتا رہتا ہے۔ تو - پھر خداوند رحیم و کریم ہے وہ بلائل جاتی ہے لیکن جب بلا نازل ہو جاتی ہے پھر نہیں ٹلا کرتی۔ بلا کے نازل ہونے سے پہلے دُعائیں کرتے رہنا چاہئے اور بہت استغفار کرنا چاہئے اس طرح سے خدا بلا کے وقت محفوظ الحکم جلد ا ا نمبر ۳۴ مورخہ ۲۴ ستمبر ۱۹۰۷ صفحه (۴) رکھتا ہے۔ استغفار کے معنی یہ ہیں کہ خدا سے اپنے گذشتہ جرائم اور معاصی کی سزا سے حفاظت چاہنا اور آئندہ گناہوں کے سرزد ہونے سے حفاظت مانگنا ۔ استغفار انبیاء بھی کیا کرتے ہیں اور عوام بھی ۔ بعض نادان پادریوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے استغفار پر اعتراض کیا ہے اور لکھا ہے کہ اُن کے استغفار کرنے سے نعوذ باللہ! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا گناہ کا ہونا ثابت ہوتا ہے۔ یہ نادان اتنا نہیں سمجھتے کہ استغفار تو ایک اعلیٰ صفت ہے انسان فطرتاً ایسا بنا ہے کہ کمزوری اور ضعف اس کا فطری تقاضا ہے۔ انبیاء اس فطرتی کمزوری اور ضعف بشریت سے خوب واقف ہوتے ہیں۔ لہذا وہ دُعا کرتے ہیں کہ یا الہی تو ہماری ایسی حفاظت کر کہ وہ بشری کمزوریاں ظہور پذیر ہی نہ ہوں۔ غفر کہتے ہیں ڈھکنے کو۔ اصل بات یہی ہے کہ جو طاقت خدا کو ہے وہ نہ کسی نبی کو ہے، نہ ولی کو اور نہ رسول کو ۔ کوئی دعوی نہیں کر سکتا کہ میں اپنی طاقت سے گناہ سے بچ سکتا ہوں ۔ پس انبیاء بھی حفاظت کے واسطے خدا کے محتاج ہیں پس اظہار عبودیت کے واسطے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی اور انبیاء کی طرح اپنی حفاظت خدا سے مانگا کرتے تھے ۔۔۔۔ استغفار ایک عربی لفظ ہے۔ اس کے معنے ہیں : طلب مغفرت کرنا۔ کہ یا الہی ! ہم سے پہلے جو گناہ سرزد ہو چکے ہیں ۔ ان کے بدنتائج سے ہمیں بچا کیونکہ گناہ ایک زہر ہے اور اس کا اثر بھی لازمی ہے۔ اور آئندہ ایسی