تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 356 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 356

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵۶ سورة البقرة حج کے واسطے جانا خلوص اور محبت سے آسان ہے مگر واپسی ایسی حالت میں مشکل ۔ بہت ہیں جو وہاں سے نامراد اور سخت دل ہو کر آتے ہیں اس کی بھی یہی وجہ ہے کہ وہاں کی حقیقت اُن کو نہیں ملتی ۔ قشر کو دیکھ کر رائے زنی کرنے لگ جاتے ہیں ۔ وہاں کے فیوض سے محروم ہوتے ہیں اپنی بدکاریوں کی وجہ سے اور پھر الزام دوسروں پر دھرتے ہیں ۔ اس واسطے ضروری ہے کہ مامور کی خدمت میں صدق اور استقلال سے کچھ عرصہ رہا جاوے تا کہ اُس کے اندرونی حالات سے بھی آگاہی ہو اور صدق پورے طور پر نورانی ہو جاوے۔ الحکم جلدے نمبر ۱۰ مورخہ ۱۷ مارچ ۱۹۰۳ صفحه ۴) جب سفر کرو تو ہر ایک طور پر سفر کا انتظام کر لیا کرو اور کافی زادراہ لے لیا کرو تا گداگری سے بچو۔ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۳۷) اور اپنے پاس تو شہ رکھو کہ تو شہ میں یہ فائدہ ہے کہ تم کسی دوسرے سے سوال نہیں کرو گے یعنی سوال ایک پا ذلّت ہے اس سے بچنے کے لئے تدبیر کرنی چاہئے۔ (شہادت القرآن ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۳۶) مومن کو بھی ہر وقت اپنے سفر کے لئے تیار اور محتاط رہنا چاہئے اور بہترین زادِ راہ تقویٰ ہے۔ فَإِنَّ خَيْرَ الحکم جلد ۴ نمبر ۴۲ مورخه ۲۴ رنومبر ۱۹۰۰ صفحه ۵) الزَّادِ التَّقوى _ - لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ فَإِذَا أَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفْتِ فَاذْكُرُوا اللهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَاذْكُرُوهُ كَمَا هَدَيكُمْ وَإِنْ كُنْتُم مِّنْ قَبْلِهِ لَمِنَ الضَّالِّينَ ۔ گناہ اصل میں جناح سے لیا گیا ہے اور ج کا تبادلہ گ سے کیا گیا ہے جیسے فارسی والے کر لیتے ہیں اور جناح اصل میں عمداً کسی طرف میل کرنے کو کہتے ہیں۔ پس گناہ سے یہ مراد ہے کہ عمداً بدی کی طرف میل کیا جاوے۔ پس میں ہرگز نہیں مان سکتا کہ انبیاء علیہم السلام سے یہ حرکت سرزد ہوا اور قرآن شریف میں اس کا ذکر بھی نہیں۔ انبیاء علیہم السلام سے گناہ کا صدور اس لئے نا ممکن ہے کہ عارفانہ حالت کے انتہائی مقام پر وہ ہوتے ہیں اور یہ نہیں ہو سکتا کہ عارف بدی کی طرف میل کرے ۔ (احکم جلد ۵ نمبر ۴۵ مورخه ۱۰ دسمبر ۱۹۰۱ صفحه ۲) ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ۔ استغفار جس کے ساتھ ایمان کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں قرآن شریف میں دو معنے پر آیا ہے؟ ایک تو یہ کہ