تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 355
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵۵ سورة البقرة کوئی مخالف آزمانے اور آگ جلا کر ہمیں اس میں ڈال دے آگ ہرگز ہم پر کام نہ کرے گی اور وہ ضرور ہمیں اپنے وعدہ کے موافق بچالے گا لیکن اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ ہم خود آگ میں کودتے پھریں یہ طریق انبیاء کا نہیں خدا تعالیٰ فرماتا ہے : وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى الشَّهْلُكَةِ پس ہم خود آگ میں دیدہ دانستہ نہیں پڑتے بلکہ یہ حفاظت کا وعدہ دشمنوں کے مقابلہ پر ہے کہ اگر وہ آگ میں ہمیں جلانا چاہیں تو ہم ہرگز نہ جلیں گے۔ اس لئے میرا ایمان تو یہ ہے کہ ہمیں تکلف اور تاویل کرنے کی ضرورت نہیں ہے جیسے خدا کے باطنی تصرفات ہیں ویسے ہی ظاہری بھی ہم مانتے ہیں بلکہ اسی لئے خدا نے اوّل ہی سے الہام کر دیا ہوا ہے کہ آگ سے ہمیں مت ڈرا آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔ ہے۔ البدر جلد ۲ نمبر ۷ ۴ مورخہ ۱۶ دسمبر ۱۹۰۳ صفحه ۳۷۳) احْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ خدا کی مخلوق سے احسان کرو کہ خدا احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا وَاتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ ۔۔۔۔۔۔۔۔ حج اور عمرہ کو اللہ کے واسطے پورا کرو۔ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۵۶) (شہادت القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۳۶) الْحَجُّ اشْهُرٌ مَّعْلُومَتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمُهُ اللهُ وَتَزَوَّدُوا تَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التقوى وَاتَّقُونِ يَأُولِي الْأَلْبَابِ ۔ حج میں محبت کے سارے ارکان پائے جاتے ہیں بعض وقت شدت محبت میں کپڑے کی بھی حاجت نہیں رہتی۔ عشق بھی ایک جنون ہوتا ہے کپڑوں کو سنوار کر رکھنا یہ عشق میں نہیں رہتا۔ سیالکوٹ میں ایک عورت ایک ورزی پر عاشق تھی اسے بہتیرا پکڑ کر رکھتے تھے وہ کپڑے پھاڑ کر چلی آتی تھی غرض یہ نمونہ جو انتہائے محبت کا ر یہ لباس میں ہوتا ہے وہ حج میں موجود ہے۔ سر منڈا یا جاتا ہے، دوڑتے ہیں ، محبت کا بوسہ رہ گیا وہ بھی ہے جو خدا کی ساری شریعتوں میں تصویری زبان میں چلا آیا ہے پھر قربانی میں بھی کمال عشق دکھایا ہے اسلام نے پورے طور پر ان حقوق کی تکمیل کی تعلیم دی ہے نادان ہے وہ شخص جو اپنی نابینائی سے اعتراض کرتا ہے۔ پران الحکم جلد ۶ نمبر ۲۶ مؤرخہ ۲۴ جولائی ۱۹۰۲ صفحه (۳)