تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 288
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۸ سورة البقرة طبعی تحقیقا تیں جہاں تک ہوتی چلی جائیں گی وہاں توحید ہی توحید نکلتی چلی جائے گی اللہ تعالیٰ اس آیت إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ میں بتلاتا ہے کہ جس خدا کو قرآن پیش کرتا ہے اُس کے لئے زمین آسمان دلائل سے بھرے پڑے ہیں۔ مجھے ایک حکیم کا مقولہ بہت ہی پسند آتا ہے کہ اگر گل کتا بیں دریا برد کردی جاویں تو پھر بھی اسلام کا خدا باقی رہ جائے گا۔ اس لئے کہ وہ مثلث اور کہانی نہیں ۔ اصل میں پختہ بات وہی ہے جس کی صداقت کسی خاص چیز پر منحصر ( نہ ) ہو کہ اگر وہ نہ ہو تو اُس کا پتہ ہی ندارد ۔ قصہ کہانی کا نقش نہ دل میں ہوتا ہے نہ صحیفہ فطرت میں ۔ جب تک کسی پنڈت پاند ہے یا پادری نے یا د رکھا ان کا کوئی وجود مسلم رہا، زاں بعد حرف غلط کی طرح مٹ گیا۔ رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ اے ، ۷۲) وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللهِ أَنْدَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّهِ وَالَّذِينَ امَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلهِ وَلَوْ يَرَى الَّذِينَ ظَلَمُوا إِذْ يَرَوْنَ الْعَذَابَ أَنَّ الْقُوَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا وَ أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعَذَابِ ۔ - جاننا چاہئے کہ قرب الہی کی تین قسمیں ، تین قسم کی تشبیہ پر موقوف ہیں جن کی تفصیل سے مراتب ثلاثہ قرب کی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ اوّل قسم قرب کی خادم اور مخدوم کی تشبہ سے مناسبت رکھتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلهِ یعنی مومن جن کو دوسرے لفظوں میں بندہ فرماں بردار کہہ سکتے ہیں سب چیزوں سے زیادہ اپنے مولیٰ سے محبت رکھتے ہیں۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ جیسے ایک نوکر با اخلاص و با صفا و با وفا بوجہ مشاہدہ احسانات متواترہ و انعامات متکاثره و کمالات ذاتیہ اپنے آقا کی اس قدر محبت و اخلاص و یک رنگی میں ترقی کر جاتا ہے جو بوجہ ذاتی محبت کے جو اس کے دل میں پیدا ہو جاتی ہے اپنے آقا سے ہم طبیعت و ہم طریق ہو جاتا ہے اور اس کی مرادات کا ایسا ہی طالب اور خواہاں ہوتا ہے جیسے آقا خود اپنی مُرادات کا خواہاں ہے اسی طرح بندہ وفادار کی حالت اپنے مولیٰ کریم کے ساتھ ہوتی ہے یعنی وہ بھی اپنے خلوص اور صدق وصفا میں ترقی کرتا کرتا اس درجہ تک پہنچ جاتا ہے کہ اپنے وجود سے بکلی محو وفنا ہو کر اپنے مولی کریم کے رنگ میں مل جاتا ہے۔ آنجا که محبتے نمک میریزد ہر پرده که بود از میان برخیزد این نفس دنی که صد ہزارش دهن است خاموش شود چو عشق شور انگیزد چوں رنگ خودی رود کسی را از عشق یارش از کرم برنگ خویش آمیزد