تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 287
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۷ سورة البقرة دریا میں لوگوں کے نفع کے لئے چلتی ہیں اور جو کچھ خدا نے آسمان سے پانی اتارا اور اس سے زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کیا۔ اور زمین میں ہر ایک قسم کے جانور بکھیر دیئے اور ہواؤں کو پھیرا اور بادلوں کو آسمان اور زمین میں مسخر کیا۔ یہ سب خدا تعالیٰ کے وجود اور اس کی توحید اور اس کے الہام اور اس کے مدبر بالا رادہ ہونے پر نشانات ہیں۔ اب دیکھئے اس آیت میں اللہ جل شانہ نے اپنے اس اصول ایمانی پر کیسا استدلال اپنے اس قانونِ قدرت سے کیا یعنی اپنی ان مصنوعات سے جو زمین و آسمان میں پائی جاتی ہیں جن کے دیکھنے سے مطابق منشاء اس آیت کریمہ کے صاف صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ بیشک اس عالم کا ایک صانع قدیم اور کامل اور وحدہ لاشریک اور مدبر بالا رادہ اور اپنے رسولوں کو دنیا میں بھیجنے والا ہے وجہ یہ کہ خدا تعالیٰ کی یہ تمام مصنوعات اور یہ سلسلہ نظام عالم کا جو ہماری نظر کے سامنے موجود ہے۔ یہ صاف طور پر بتلا رہا ہے کہ یہ عالم خود بخود نہیں بلکہ اس کا ایک موجد اور صانع ہے جس کے لئے یہ ضروری صفات ہیں کہ وہ رحمان بھی ہو اور رحیم بھی ہو اور قادر مطلق بھی ہو اور واحد لاشریک بھی ہو اور ازلی ابدی بھی ہو اور مدبر بالا رادہ بھی ہو اور مستجمع جمیع صفات کا ملہ بھی ہو اور وحی کو نازل کرنے والا بھی ہو۔ ( جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۲۵) ہواؤں اور بادلوں کو پھیرنا یہ خدا تعالیٰ کا ہی کام ہے اور اس میں عقل مندوں کو خدا تعالیٰ کی ہستی اور اس کے اختیار کامل کا پتہ لگتا ہے۔ اور یہ پھیر نا دوقسم پر ہے ایک ظاہری طور پر اور وہ یہ ہے کہ ہواؤں اور بادلوں کو ایک جہت سے دوسری جہت کی طرف اور ایک مقام سے دوسرے مقام کی طرف پھیرا جائے ۔ دوسری قسم پھیرنے کی باطنی طور پر ہے۔ اور وہ یہ کہ ہواؤں اور بادلوں میں ایک کیفیت تریاقی یاسمی پیدا کر دی جائے تا موجب امن و آسائش خلق ہوں یا امراض وبائیہ کا موجب ٹھہریں ۔ سو ان دونوں قسموں کے پھیرنے میں انسان کا دخل نہیں اور بکلی انسانی طاقت سے باہر ہیں۔ اور باایں ہمہ ایک یہ مشکل بھی پیش ہے کہ ہماری صحت یا عدم صحت کا مدار صرف ان ہی دو چیزوں پر نہیں بلکہ ہزار دو ہزار اسباب ارضی و سماوی اور بھی ہیں جو دقیق در دقیق اور انسان کی فکر اور نظر سے مخفی ہیں اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ تمام اسباب اُس کی جدوجہد سے پیدا ہو سکتے ہیں ۔ پس اس میں کیا شک ہے کہ انسان کو اس خدا کی طرف رجوع کرنے کی حاجت ہے جس کے ہاتھ میں ایام صلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۲۳۶) یہ تمام اسباب اور اسباب در اسباب ہیں ۔ خدا نے ایک ایسا پانی اُتارا ہے جس سے مردہ زمین زندہ ہورہی ہے۔ - (ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۴۳۰ حاشیه )