تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 250
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۰ سورة البقرة کے ہم عصر تھے نہ کہ بعد میں آنے والے یا بعد میں اہنیت کا منصب پانے والے۔ ماسوا اس کے ہر یک شخص آزما سکتا ہے کہ دائمی طور پر سچے طالبوں کو روح قدس اور آتش محبت سے بپتسما دینے والا آسمان کے نیچے صرف ایک ہی ہے یعنی جناب سیدنا و مولانا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جس کے جلال تام کا حضرت مسیح اپنی پیش گوئیوں میں آپ اقرار کرتے ہیں اور اسی روح کے بپتسما کی طرف اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں اشارہ بھی فرمایا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے وَ أَيَّدَهُم بِرُوحِ مِنْهُ (المجادلة: (۲۳) یعنی خدائے تعالیٰ مومنوں کو روح قدس سے تائید کرتا ہے اور پھر فرماتا ہے : صِبْغَةَ اللَّهِ ۚ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللهِ صِبْغَةً یعنی یہ خدا کا بپتسما ہے اور کون سا بپتسما اس سے بڑھ کر خوبصورت ہے۔ سرمہ چشم آریہ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۲۸۴، ۲۸۵ حاشیه ) سَيَقُولُ السُّفَهَاءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلَهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا قُلْ للهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ وَ كَذَلِكَ جَعَلْنَكُمْ اُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَ يَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِي كُنْتَ عَلَيْهَا إِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يَتَّبِعُ الرَّسُولَ مِمَّنْ يَنْقَلِبُ عَلَى عَقِبَيْهِ وَ إِنْ كَانَتْ لَكَبِيرَةً إِلَّا عَلَى الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ وَ مَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيْمَانَكُمْ إِنَّ اللَّهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ ) اس مبارک اُمت کے لئے قرآن شریف میں وسط کی ہدایت ہے۔ توریت میں خدائے تعالیٰ نے انتظامی امور پر زوردیا تھا اور انجیل میں عفو اور درگذر پر زور دیا تھا اور اس اُمت کو موقع شناسی اور وسط اور وسط کی تعلیم ملی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَكَذَلِكَ جَعَلْنَكُمْ أُمَّةً وَسَطًا ۔ یعنی ہم نے تم کو وسط پر عمل کرنے والے بنایا اور وسط کی تعلیم تمہیں دی۔ سو مبارک وہ جو وسط پر چلتے ہیں ۔ خَيْرُ الْأُمُورِ أَوْسَطُهَا ۔ - اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۷۷) قرآن شریف کی تعلیم جس پہلو اور جس باب میں دیکھو اپنے اندر حکیمانہ پہلو رکھتی ہے۔ افراط یا تفریط اس میں نہیں ہے بلکہ وہ نقطہ وسط پر قائم ہوئی ہے اور اسی لئے اس اُمت کا نام بھی اُمَّةً وَسَطًا رکھا گیا ہے۔ الحکم جلدے نمبر ۱۶ مورخه ۳۰ را پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۱) حفظ مراتب کا مقام قرآن شریف نے رکھا ہے کہ وہ عدل کی طرف لے جاتا ہے تمام احکام میں اس کی