تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 249
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۹ سورة البقرة خواہ وہ کسی قوم یا کسی ملک میں پیدا ہوئے تھے ۔ ہم خدا کے نبیوں میں تفرقہ نہیں ڈالتے جو بعض کو قبول کریں اور بعض کورڈ کریں بلکہ ہم سب کو قبول کرتے ہیں جو خدا کی طرف سے دُنیا میں آئے اور ہم اس طرح پر جو خدا نے سکھایا ہے اسلام میں داخل ہوتے ہیں اور خدا کے آگے اپنی گردن ڈالتے ہیں پس اگر دوسرے لوگ بھی جو اسلام کے مخالف ہیں اسی طرح ایمان لاویں اور کسی نبی کو جو خدا کی طرف سے آیا ر ڈ نہ کریں تو بلا شبہ وہ بھی ہدایت پاچکے اور اگر وہ روگردانی کریں اور بعض نبیوں کو مانیں اور بعض کو رد کر دیں تو انہوں نے سچائی کی مخالفت کی اور خدا کی راہ میں پھوٹ ڈالنی چاہی پس تو یقین رکھ کہ وہ غالب نہیں ہو سکتے اور اُن کو سزا دینے کے لئے خدا کافی ہے اور جو کچھ وہ کہتے ہیں خدا سن رہا ہے اور ان کی باتیں خدا کے علم سے باہر نہیں۔ چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۳۷۶، ۳۷۷) اگر وہ ایسا ( ایمان ) لائیں جیسا کہ تم ایمان لائے تو وہ ہدایت پاچکے اور اگر ایسا ایمان نہ لاویں تو پھر وہ ایسی قوم ہے کہ جو مخالفت چھوڑ نا نہیں چاہتی اور صلح کی خواہاں نہیں ۔ ( پیغام صلح ، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۴۷۵) فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللهُ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ اور ان کی شرارتوں کے دفع کرنے کے لئے خدا تجھے کافی ہے اور وہ سمیع اور علیم ہے۔ ( براہین احمد یہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۲۵۴) خدائے تعالیٰ ان سب کے تدارک کے لئے جو اس کام کو روک رہے ہیں۔ تمہارا مددگار ہوگا۔ مجموعه اشتہارات جلد اول صفحه ۱۳۷) صِبْغَةَ اللَّهِ ۚ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ صِبْغَةً وَنَحْنُ لَهُ عَبدُونَ ) یہ طریق اصطباغ خدا نے تمہیں سکھایا ہے اور یہ خدا کا بپتسمہ ہے اور خدا کے بپتسمہ سے کونسا بپتسمہ بہتر ہو سکتا ہے اور تم اس بات کا اقرار کرو کہ ہم اُسی خدا کے پرستار ہیں اور اُسی کی پرستش کرتے ہیں۔ چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۷۷) یوحنا نبی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جلالیت و عظمت ظاہر کرنے کے لئے بطور پیشگوئی گواہی دی جو انجیل متی باب سوم میں اس طرح پر درج ہے: (۱۱) میں تو تمہیں تو بہ کے لئے پانی سے بپتسما دیتا ہوں لیکن وہ جو میرے بعد آتا ہے مجھ سے قوی تر ہے کہ میں اس کی جوتیاں اٹھانے کے لائق نہیں وہ تمہیں روح قدس اور آگ سے بپتسما دے گا۔ اس پیشگوئی پر محض نادانی کی راہ سے عیسائی لوگ خصومت کرتے ہیں کہ یہ حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں ہے مگر یہ دعوی سراسر باطل و بے بنیاد ہے اوّل تو حضرت مسیح حضرت یوحنا