تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 151
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۱ سورة البقرة الرُّوحَانِي وَسُدَّ الصِّرَاطُ الرَّيَّانِي وَعَسِرَ أَمْرُ اسلام میں توحید کا مدار ہے اور اس کی تعظیم السَّالِكِينَ فَمَالَكَ لَا تَفْهَمُ وَحْدَةً دَالَّةً عَلَى الْوَحِيدِ اور مجید کے لئے اصل کبیر ہے اور خدا تعالیٰ وَهِيَ فِي الْإِسْلَامِ مَدَارُ التَّوْحِيدِ وَ أَصْلُ كَبِيرٌ کی وحدانیت اور اس کی یکتائی کے پہچاننے لِلتَّعْظِيمِ وَ التَّمْجِيدِ وَ سِرَاجٌ مُّنِيرٌ لِمَعْرِفَةِ کے لئے ایک چراغ روشن ہے اور ان الْوَحْدَانِيَّةِ الْإِلَهِيَّةِ وَالْأَحَدِيَّةِ الرَّبَّانِيَّةِ وَإِنَّهَا مِنْ علوم میں سے ہے جو اہلِ اسلام سے عُلُومِ اخْتَصَّتْ بِالْمُسْلِمِينَ۔ خاص ہے۔ ( ترجمہ اصل کتاب سے ) من الرحمن ، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۲۱۱ تا ۲۱۴) ابتدا میں جب خدا نے انسان کو پیدا کیا۔ اس وقت بذریعہ الہام بولیوں کی تعلیم کرنا ایسا امر تھا کہ جس میں دونوں طور کی شرائط موجود تھی۔ اوّل ذاتی قابلیت پہلے انسان میں جیسا کہ چاہئیے الہام پانے کے لئے موجود تھی ۔ دوسری ضرورت حقہ بھی الہام کی مقتضی تھی کیونکہ اس وقت بجز خدائے تعالیٰ کے اور کوئی حضرت آدم کے لئے رفیق شفیق نہ تھا کہ جو ان کو بولنا سکھاتا۔ پھر اپنی تعلیم سے شائستگی اور تہذیب کے مرتبہ تک پہنچاتا۔ بلکہ حضرت آدم کے لئے صرف ایک خدائے تعالیٰ تھا جس نے تمام ضروری حوائج آدم کو پورا کیا اور اُس کو آپ حُسن تربیت اور حُسنِ تادیب سے بمرتبہ حقیقی انسانیت کے پہنچایا۔ ہاں بعد اس کے جب اولاد حضرت آدم کی دنیا میں پھیل گئی۔ اور جو علوم خدائے تعالیٰ نے آدم کو سکھلائے تھے۔ وہ اس کی اولاد میں بخوبی رواج پکڑ گئے ۔ تب بعض انسان بعض انسانوں کے استاد اور معلم بن بیٹھے اور ہر یک بچہ کے لئے اس کے والدین بولی سکھانے کے لئے رفیق شفیق نکل آئے۔ مگر آدم کے لئے بجز ایک خدا کے اور کوئی نہ تھا جو اس کو بولی سکھا تا اور ادب انسانیت سے ادب آموز کرتا۔ اس کے لئے بجائے استاد اور معلم اور ما اور باپ کے اکیلا خدا ہی تھا۔ جس نے اس کو پیدا کر کے آپ سب کچھ اس کو سکھایا۔ غرض آدم کے لئے یہ ضرورت حقا و وجو با پیش آگئی تھی کہ خدا اس کی تربیت آپ فرماتا اور اس کے مایحتاج کا آپ بند و بست کرتا۔ ( براہین احمدیہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۴۳۱ تا ۴۴۰) ممکن ہے کہ جس مقام پر آدم علیہ السلام کی پیدائش ہوئی ہو وہاں کے لوگ کسی عذاب الہی سے ایسے تباہ ہو گئے ہوں کہ آدمی نہ بچا ہو دنیا میں یہ سلسلہ جاری ہے کہ کوئی مقام بالکل تباہ ہو جاتا ہے۔ کوئی غیر آباد، آباد ہو جاتا ہے۔ کوئی برباد شدہ پھر از سر نو آباد ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ پس ایسی صورت میں ان مشکلات میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے۔ ایمان لانا چاہئے کہ خدا تعالیٰ ربّ ، رحمان، رحیم، مالک یوم الدین ہے اور ہمیشہ سے ہی