تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 150 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 150

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۰ سورة البقرة مِن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ كَيْفَ تُعْزَى إِلَيْهِ | میں نہیں ۔ پس جس نے انسان کو نفسِ واحد سے پیدا کیا كَثْرَةٌ غَيْرُ مُرَتَّبَةٍ وَلُغَاتٌ مُتَفَرِّقَةٌ غَيْرُ کیونکر اس کی طرف ایک ایسی کثرت منسوب کی جائے جو مُنْتَظِمَةٍ أَلَّا تَعْلَمُ أَنَّهُ رَاعَى الْوَحْدَةَ في غیر مرتب ہے اور کیونکر ایسی زبانیں اس کی طرف سے سمجھی كُلِّ كَثْرَةٍ وَأَشَارَ إِلَيْهِ فِي صُحُفِ مُطَهَّرَةٍ جائیں جو غیر منتظم ہیں۔ کیا تجھے معلوم نہیں کہ اس نے وَ كِتَابِ اِمَامِ الْعَارِفِينَ وَ آبَانَ فِي صُحُفِهِ ہر یک کثرت میں وحدت کی رعایت رکھی ہے اور اپنی الْغَرَّاءِ أَنَّهُ خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ مِنَ الْمَاءِ پاک کلام میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے جو عارفوں کی فَانْظُرُ إِلى سُنَّةِ حَضْرَةِ الْكِبْرِيَاءِ - كَيْفَ رَدَّ امام ہے اور اس نے اپنی کتاب روشن میں بیان فرمایا ہے الْكَثْرَةَ إِلى وَحْدَةِ الْأَشْيَاءِ وَ جَعَلَ الْمَاءَ کہ اس نے ہر یک چیز کو پانی سے ہی پیدا کیا ہے۔ پس أمَّ الْأَرْضِ وَالسَّمَاءِ فَفَكِّرُ كَالْعُقَلَاءِ خدا تعالیٰ کی سنت کی طرف دیکھ کیوں کر اس نے کثرت کو وحدت فَإِنَّهُ عُنْوَانُ الْإِهْتِدَاءِ وَ لَا تَسْتَعْجِلُ کی طرف رد کیا ہے اور پانی کو زمین اور آسمان کی ماں ٹھہرایا كَالْجَاهِلِينَ وَ إِنَّ هَذِهِ الْآيَةَ دَلِيلٌ وَاضح ہے پس عقلمندوں کی طرح سوچ کہ یہ ہدایت پانے کی علامت عَلَى سُنَّةِ خَالِقِ الرَّقِيعِ وَ الْغَبْرَاءِ وَفِيهَا ہے اور جاہل مت بن ۔ اور یہ آیت خالق زمین و آسمان کی تَبْصِرَةٌ لِأَهْلِ الْأَنْظَارِ وَالْأَرَاءِ وَاللهُ وِتر سنت پر دلیل واضح ہے اور اس میں اہلِ نظر کے لئے بصیرت يُحِبُّ الْوِتْرَ يَا مَعْشَرَ الظُّلَبَاءِ ۔ کی راہ ہے اور خدا تعالیٰ وتر ہے وتر کو دوست رکھتا ہے۔ هُوَ الَّذِي نَوَّرَ مِنْ نُورٍ وَاحِدٍ نُجُومَ وہی ہے جس نے ایک نور سے تمام ستاروں کو بنایا اور السَّمَاءِ وَ خَلَقَ نُفُوسًا مُتَشَابِهَةً عَلَى زمین پر تمام نفوس متشابہ پیدا کئے اور انسان کو ایک عالم الْغَبْرَاءِ وَجَعَلَ الْإِنْسَانَ عَالِمًا جَامِعَ جميع حقائق اشیاء کا جامع بنایا پس اگر مخلوقات کا نظام جَمِيعَ حَقَائِقَ الْأَشْيَاءِ فَلَوْلَمْ يَكُن وحدت پر مبنی نہ ہوتا تو خدا تعالیٰ کی پیدائش میں یہ نِظَامُ الْخَلْقِ مَبْنِيًّا عَلَى الْوَحْدَةِ لَهَا مشابہت نہ پائی جاتی اور مخلوق متفرق چیزوں کی طرح وُجِدَتْ فِي خَلْقِ اللهِ وُجُودُ هَذِهِ ہوتی بلکہ اگر نظام وحدانی نہ ہوتا تو حکمت باطل ہو جاتی اور الْمُشَابَهَةِ وَلَكَانَ خَلْقُ اللهِ ستر روحانی ضائع ہو جاتا اور ربانی راہ بند ہو جاتی اور كَالْمُتَفَرِقِيْنَ بَلْ لَوْ لَمْ يَكُنِ النِّظَامُ سالکوں کا امر مشکل ہو جاتا۔ پس تجھے کیا ہو گیا کہ تو اس الْوَحْدَانِي لَبَطَلَتِ الْحِكَمُ وَضَاعَ السر وحدت کو نہیں سمجھتا جو اس لیگا نہ پر دلالت کرتی ہے اور وہی