تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 409
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام لد ۔۔ سورة الفاتحة میں ذرا کجی نہیں سو اس آیت میں ذاتی خوبی اس راستہ کی بیان فرما کر اس کے حصول کے لئے ترغیب دی۔ دوسری جز ترغیب کی یہ ہے کہ جس شے کی طرف ترغیب دینا منظور ہو اس شے کے فوائد بیان کئے جائیں ۔سو اس جز کو اس آیت میں بیان فرمایا ۔ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ یعنی اس راستہ پر ہم کو چلا جس پر چلنے سے پہلے سالکوں پر انعام اور کرم ہو چکا ہے۔ سو اس آیت میں راستہ چلنے والوں کا کامیاب ہونا ذکر فرما کر اس راستہ کا شوق دلایا۔ تیسری جز ترغیب کی یہ ہے کہ جس شے کی طرف ترغیب دینا منظور ہو اس شے کے چھوڑ نے والوں کی خرابی اور بدحالی بیان کی جائے ۔ سو اس جز کو اس آیت میں بیان فرمایا غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ۔ یعنی ان لوگوں کی راہوں سے بچا جنہوں نے صراط مستقیم کو چھوڑا اور دوسری راہیں اختیار کیں اور غضب الہی میں پڑے اور گمراہ ہوئے سو اس آیت میں اس سیدھا راستہ چھوڑ نے پر جو ضر ر مترتب ہوتا ہے اس سے آگاہ کیا۔ غرض سورۃ فاتحہ میں ترغیب کی تینوں جزوں کو لطیف طور پر بیان کیا۔ ذاتی خوبی بھی بیان کی ۔ فوائد بھی بیان کئے اور پھر اس راہ کے چھوڑنے والوں کی ناکامی اور بد حالی بھی بیان فرمائی تا ذاتی خوبی کو سن کر طبائع سلیمہ اُس کی طرف میل کریں اور فوائد پر اطلاع پا کر جو لوگ فوائد کے خواہاں ہیں ان کے دلوں میں شوق پیدا ہو اور ترک کرنے کی خرابیاں معلوم کر کے اس وبال سے ڈریں جو کہ ترک کرنے پر عائد حال ہوگا ۔ پس یہ بھی ایک کامل لطیفہ ہے جس کا التزام اس صورت میں کیا گیا۔ پھر تیسر ا لطیفہ اس سورۃ میں یہ ہے کہ با وجود التزام فصاحت و بلاغت یہ کمال دکھلایا ہے کہ محامد الہیہ کے ذکر کرنے کے بعد جو فقرات دُعا وغیرہ کے بارہ میں لکھے ہیں ۔ ان کو ایسے عمدہ طور پر بطور لف و نشر مرتب کے بیان کیا ہے جس کا صفائی سے بیان کرنا با وجود رعایت تمام مدارج فصاحت و بلاغت کے بہت مشکل ہوتا ہے اور جولوگ سخن میں صاحب مذاق ہیں وہ خوب سمجھتے ہیں کہ اس قسم کے لف و نشر کیسا نازک اور دقیق کام ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ نے اوّل محامد الہیہ میں فیوض اربعہ کا ذکر فرمایا کہ وہ ربّ العالمین ہے۔ رحمان ہے۔ رحیم ہے۔ مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ ہے۔ اور پھر بعد اس کے فقرات تعبد اور استعانت اور دُعا اور طلب جزا کو انہیں کے ذیل میں اس لطافت سے لکھا ہے کہ جس فقرہ کو کسی قسم فیض سے نہایت مناسبت تھی اُسی کے نیچے وہ فقرہ درج کیا۔ چنانچہ رَبُّ الْعَلَمِينَ کے مقابلہ پر اِيَّاكَ نَعْبُدُ لکھا۔ کیونکہ ربوبیت سے استحقاق عبادت شروع ہو جاتا ہے پس اسی کے نیچے اور اسی کے محاذات میں اِيَّاكَ نَعْبُدُ کا لکھنا نہایت موزوں اور مناسب ہے اور رحمان کے مقابلہ پر إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ لکھا۔ کیونکہ بندہ کے لئے اعانت الہی جو توفیق